آبنائے ہرمز: امریکہ-ایران مذاکرات تعطل کا شکار، کشیدگی برقرار
ایک نظر میں
- آبنائے ہرمز کے تنازعے پر امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
- ایران نے آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی شرائط کو مسترد کر دیا ہے، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
- ابتدائی پیش رفت کی خبروں پر خام تیل کی قیمتوں میں چار فیصد سے زائد کمی دیکھی گئی تھی۔
اب تک کی صورتحال
قطر، پاکستان اور عمان جیسے ثالثوں کی شمولیت سے آبنائے ہرمز کے تنازعے پر امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ابتدائی رپورٹس میں آبنائے کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کی طرف پیش رفت کا اشارہ دیا گیا تھا، جس کے باضابطہ اعلان کی توقع تھی۔ تاہم، ایران نے بعد میں مبینہ طور پر امریکی شرائط کو مسترد کر دیا ہے، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ صورتحال بدستور کشیدہ ہے، جہازوں پر حملوں اور ناکہ بندی کی اطلاعات ہیں، جبکہ ایران واشنگٹن کے ساتھ براہ راست بات چیت سے انکار کر رہا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
ابتدائی پیش رفت کے اشاروں کے باوجود، ایران نے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی شرائط کو مسترد کر دیا ہے، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ واشنگٹن کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کر رہی ہے، اور اصرار کر رہی ہے کہ بات چیت صرف عمان کے ساتھ آبنائے کے بارے میں ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
ایران نے مبینہ طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے امریکی شرائط کو مسترد کر دیا ہے، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ہفتوں کی بات چیت کے بعد، امریکہ، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ معاہدہ، جو ابتدائی طور پر 60 دن کے لیے ہے اور توسیع کا اختیار بھی رکھتا ہے، امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کو مضبوط بنانے اور ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔
مجوزہ فریم ورک کے تحت، ایران کو آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی نگرانی کا زیادہ اختیار حاصل ہوگا۔ خلیج میں داخل ہونے والے جہاز ایرانی پانیوں میں شمالی شپنگ لین استعمال کریں گے، جبکہ بحیرہ عرب کی طرف جانے والے جہاز عمانی پانیوں میں جنوبی لین استعمال کریں گے، جس کی ایران کے ساتھ مشاورت سے ہم آہنگی کی جائے گی۔ اس 60 روزہ مدت کے دوران کوئی ٹرانزٹ ٹول یا فیس وصول نہیں کی جائے گی۔ مرکزی شپنگ لین سے بحری بارودی سرنگیں 30 دن کے اندر صاف کرنے کا بھی منصوبہ ہے، جس کے بعد اسے ایران اور عمان کی مشترکہ نگرانی میں مستقل ٹریفک مینجمنٹ انتظام میں شامل کیا جائے گا۔
مذاکراتی کوششوں میں عمان، قطر، پاکستان اور سعودی عرب کے حکام شامل تھے۔ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے حالیہ دنوں میں کئی ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے ہفتے کے آخر میں مجوزہ معاہدے کی ابتدائی منظوری دی تھی، جو ایران کی سینئر قیادت اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی توثیق سے مشروط تھی۔ ایرانی قیادت نے منگل کو اپنی منظوری کا عمل مکمل کر لیا ہے اور امریکہ کی جانب سے آج ایک باضابطہ اعلان متوقع ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کے بعد ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات اگلے مرحلے میں ہوں گے۔
تازہ ترین فیکٹ چیکس
US, Iran and Oman near breakthrough to reopen Strait of Hormuz amid mediation efforts
WASHINGTON – The United States, Iran and Oman are reportedly close to reaching an interim agreement aimed at reopening the…
Qatar says progress made toward US-Iran talks on ending war
Qatar said mediators were making progress in efforts to end the US-Iran war on Tuesday, driving oil prices lower, although Tehran has denied President Donald Trump’s assertion that talks are already under way. Benchmark Brent crude fell more than fou
Responses