مرکزی خبر پر جائیں

وزیراعلیٰ آفریدی اہلیت کیس: عدالت کا علی امین گنڈاپور کو نوٹس جاری

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: وزیراعلیٰ آفریدی اہلیت کیس: عدالت کا علی امین گنڈاپور کو نوٹس جاری
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • وفاقی آئینی عدالت نے وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کے انتخاب کو چیلنج کرنے والی درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے۔
  • عدالت نے سہیل آفریدی، صوبائی حکومت اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو نوٹس جاری کیے ہیں۔
  • درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ گنڈاپور کا استعفیٰ غیر آئینی تھا کیونکہ یہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر دیا گیا تھا۔

اب تک کی صورتحال

وفاقی آئینی عدالت شیر افضل مروت کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کر رہی ہے جس میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے انتخاب کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ کالعدم تھا کیونکہ یہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر دیا گیا تھا اور گورنر نے اسے قبول نہیں کیا تھا۔ عدالت نے کیس کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اٹارنی جنرل اور اب علی امین گنڈاپور کو نوٹس جاری کیے ہیں۔ سماعت اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

وفاقی آئینی عدالت نے خیبرپختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ان کے جانشین سہیل آفریدی کے انتخاب کو چیلنج کرنے والے کیس میں نوٹس جاری کر دیا ہے۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ گنڈاپور کا استعفیٰ غیر آئینی اور بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر تھا۔

تازہ ترین اپڈیٹس

سماعت کے دوران درخواست گزار شیر افضل مروت نے مؤقف اختیار کیا کہ سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ رضاکارانہ نہیں تھا بلکہ بانی پی ٹی آئی کی ہدایت پر دیا گیا تھا، جو ان کے بقول غیر آئینی ہے۔ انہوں نے دلیل دی کہ گنڈاپور کو ہٹانے کا طریقہ آئین کے آرٹیکل 130(8) کی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے اب علی امین گنڈاپور کو بھی نوٹس جاری کر دیا ہے۔ بینچ، جس میں جسٹس باقر نجفی بھی شامل تھے، نے دلائل سنے کہ عوامی عہدے کے لیے نااہل شخص پراکسی کے ذریعے حکومت نہیں چلا سکتا۔

Responses

تازہ ترین فیکٹ چیکس

>