جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں، حملے کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا: ایران
ایک نظر میں
- ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق امریکا سے تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں۔
- تہران نے خبردار کیا ہے کہ حملے کی صورت میں جواب 'پہلے سے زیادہ سخت' ہوگا۔
- امریکا کی جانب سے سات شرائط تسلیم کیے جانے پر آبنائے ہرمز ایک ہفتے میں کھل سکتی ہے۔
اب تک کی صورتحال
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، تہران 'شفاف اور منصفانہ مذاکرات' کے ذریعے سفارتی حل پر زور دے رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کسی بھی نئے حملے پر 'سخت' فوجی ردعمل کی دھمکی دی ہے، جبکہ نئی امریکی پابندیوں کو غیر مؤثر قرار دیا ہے۔ ایک اہم تنازع آبنائے ہرمز ہے، جس کے بارے میں ایران کا کہنا ہے کہ وہ سات شرائط پوری ہونے تک اسے نہیں کھولے گا۔ دوسری جانب، امریکا کا اصرار ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق ثالثوں کے ذریعے بالواسطہ بات چیت جاری ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ سفارت کاری کا دروازہ کھلا ہے، لیکن کسی بھی نئے حملے کا جواب 'پہلے سے زیادہ سخت' دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ امریکا فوجی اور سفارتی دونوں محاذوں پر ناکام ہو چکا ہے۔
Responses
تازہ ترین فیکٹ چیکس
جنگ کا کوئی فوجی حل نہیں؛ حملہ ہوا تو جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا، ایران کا امریکا کو دوٹوک جواب
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے اور مسئلے کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔
The role of mediators like Qatar and Pakistan is crucial for de-escalation. This diplomatic back-channel is an important safeguard against miscalculation that could lead to a much larger conflict in the region.