مرکزی خبر پر جائیں

ججوں کو بیرونی دباؤ سے بچانے کے لیے ضابطہ اخلاق میں ترمیم کر دی گئی: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: ججوں کو بیرونی دباؤ سے بچانے کے لیے ضابطہ اخلاق میں ترمیم کر دی گئی: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ججوں کو بیرونی دباؤ سے بچانے کے لیے عدالتی ضابطہ اخلاق میں ترمیم کا اعلان کیا۔
  • انہوں نے ضلعی عدلیہ کو نظام انصاف کی 'ریڑھ کی ہڈی' قرار دیتے ہوئے اہم اصلاحات کا خاکہ پیش کیا۔
  • اصلاحات میں منصوبوں کے لیے تیز فنڈنگ، عدالتوں کے لیے سولر پاور، اور جوڈیشل افسران کے لیے ہیلتھ انشورنس شامل ہیں۔

اب تک کی صورتحال

ہفتے کے روز چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے اسلام آباد میں ایک جوڈیشل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اہم اصلاحات کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ عدالتی ضابطہ اخلاق کو تبدیل کیا گیا ہے تاکہ جج بیرونی دباؤ سے آزاد ہو کر آزادانہ طور پر کام کر سکیں۔ چیف جسٹس نے ضلعی عدلیہ کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے، جیسے سولر پاور اور انٹرنیٹ کی فراہمی، اور ایکسس ٹو جسٹس فنڈ کے ذریعے منصوبوں کی فنڈنگ کو ہموار کرنے جیسے اقدامات کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے ملک بھر کے جوڈیشل افسران کے لیے ہیلتھ انشورنس کی فراہمی کا بھی اعلان کیا۔

تازہ ترین پیش رفت

چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ججوں کو بیرونی دباؤ سے بچانے کے لیے ضابطہ اخلاق میں ترمیم کر دی گئی ہے۔ اسلام آباد میں ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے ضلعی عدلیہ کو مضبوط بنانے کے لیے متعدد اصلاحات کی تفصیلات بھی بتائیں، جسے انہوں نے ملک کے نظام انصاف کی 'ریڑھ کی ہڈی' قرار دیا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>