پی ٹی آئی کی جے یو آئی (ف) کو 27 ستمبر کے احتجاج اور اے پی سی میں شرکت کی دعوت
ایک نظر میں
- پی ٹی آئی اور جے یو آئی (ف) نے سیاسی اتحاد قائم کر لیا ہے۔
- پی ٹی آئی نے جے یو آئی (ف) کو 27 ستمبر کے احتجاج اور آل پارٹیز کانفرنس میں مدعو کیا ہے۔
- دونوں جماعتیں سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن تشکیل دیں گی۔
اب تک کی صورتحال
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام فضل (جے یو آئی-ف) نے سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن بنانے کے لیے سیاسی اتحاد کا اعلان کیا ہے۔ اسلام آباد میں وفود کے درمیان ملاقات کے بعد، پی ٹی آئی نے جے یو آئی-ف کو 'تحفظ آئین' تحریک کے تحت 27 ستمبر کو ہونے والے احتجاج اور آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شامل ہونے کی باضابطہ دعوت دی ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
پی ٹی آئی کے وفد نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی اور ان کی جماعت کو آل پارٹیز کانفرنس اور 27 ستمبر کو ہونے والے احتجاج میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی۔
تازہ ترین اپڈیٹس
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کو 27 ستمبر کو ہونے والے احتجاج اور آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) میں شرکت کی باضابطہ دعوت دی ہے۔
جمعہ کو وفود کے درمیان ملاقات کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام ف (جے یو آئی-ف) نے باضابطہ طور پر سیاسی اتحاد کا اعلان کر دیا ہے۔
مذاکرات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے بتایا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مشترکہ اپوزیشن بنانے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی معاملات پر بات چیت کے لیے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائی جا رہی ہے۔
جے یو آئی رہنما مولانا عبدالغفور حیدری نے مذاکرات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت میں اے پی سی اور بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمٰن (جے یو آئی-ف) کے وفود کے درمیان ملاقات کے بعد دونوں جماعتوں نے سیاسی اتحاد کا اعلان کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ اعلان پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان اور جے یو آئی کے رہنما مولانا غفور حیدری نے مشترکہ طور پر کیا۔
ذرائع اور اپڈیٹس
پی ٹی آئی وفد کی فضل الرحمن سے ملاقات، احتجاجی تحریک پر بات چیت
اسلام آباد: تحریک انصاف کے وفد کی آج مولانا فضل الرحمن سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات ہوئی. جس میں سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
Responses