مرکزی خبر پر جائیں

حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام، جماعت اسلامی کا احتجاج تیز کرنے کا اعلان

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: حکومت کے ساتھ مذاکرات ناکام، جماعت اسلامی کا احتجاج تیز کرنے کا اعلان
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • جماعت اسلامی اور حکومت کے درمیان پیٹرول کی قیمتوں پر مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔
  • جماعت اسلامی نے اپنی ملک گیر احتجاجی مہم کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
  • کراچی میں دھرنے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے؛ متعلقہ ہڑتال کیس میں گرفتار چھ افراد کو ضمانت مل گئی ہے۔

اب تک کی صورتحال

جماعت اسلامی (JI) نے مہنگائی اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاجی مہم شروع کر رکھی ہے۔ جماعت اسلامی کے وفد اور ایک اعلیٰ سطحی حکومتی ٹیم کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور صارفین کو ریلیف دینے پر کسی معاہدے کے بغیر ختم ہوگیا۔ حکومت کی جانب سے مزید بات چیت کے لیے تین دن کی توسیع کی درخواست کو پارٹی نے قبول نہیں کیا اور اب اس نے اپنے احتجاج کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس میں کراچی میں ایک دھرنا بھی شامل ہے جو ٹریفک کے مسائل کا باعث بن رہا ہے۔ لانگ مارچ کے حوالے سے حتمی فیصلہ امیر جماعت اسلامی کریں گے۔

تازہ ترین پیش رفت

حکومت کے ساتھ مذاکرات کی ناکامی کے بعد جماعت اسلامی نے اپنی احتجاجی تحریک کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کراچی میں جماعت اسلامی کے دھرنے سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے، جبکہ ایک عدالت نے متعلقہ ہڑتال کیس میں گرفتار چھ افراد کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

جمعہ کو ایک متعلقہ پیش رفت میں، ایک عدالت نے جماعت اسلامی کی ہڑتال سے متعلق کیس میں نامزد چھ ملزمان کی ضمانت منظور کر لی۔

دریں اثنا، کراچی میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے باعث شدید ٹریفک جام کی اطلاعات ہیں۔ کراچی کے میئر نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ طویل ٹریفک جام شہریوں کے لیے ایندھن کے زیادہ استعمال کا باعث بنتا ہے۔

جماعت اسلامی (جے آئی) اور حکومت کے درمیان پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گیا۔

مذاکرات میں تعطل کے بعد، جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایندھن کی بلند قیمتوں کے خلاف ملک گیر احتجاج اور دھرنے جاری رکھے گی۔ حکومتی وفد، جس میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیراعظم کے معاون خصوصی رانا ثناء اللہ شامل تھے، نے مزید بات چیت کے لیے تین دن کی توسیع کی درخواست کی تھی اور لانگ مارچ کے اعلان میں تاخیر کی اپیل کی تھی۔

جماعت اسلامی کے وفد کی قیادت پارٹی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کی۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ پارٹی نے اپنے چھ مطالبات پر دلائل پیش کیے، لیکن لانگ مارچ سے متعلق حتمی فیصلہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن کریں گے۔

جمعرات کو دستیاب اطلاعات کے مطابق، جماعت اسلامی (JI) اور حکومت کے درمیان پیٹرولیم لیوی کے حوالے سے مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو گیا ہے۔ یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب پارٹی مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف اپنی احتجاجی مہم جاری رکھے ہوئے ہے، جس میں دھرنے اور ممکنہ لانگ مارچ کا اعلان بھی شامل ہے۔

جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے بھی پارٹی کی جاری احتجاجی سرگرمیوں کے حوالے سے بیانات جاری کیے ہیں۔

جمعرات، 10 ستمبر کی رپورٹس کے مطابق، جماعت اسلامی (JI) نے راولپنڈی میں اپنا دھرنا ختم کر دیا ہے۔

یہ احتجاج مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف پارٹی کی جاری مہم کا حصہ تھا، جس میں پہلے لاہور میں ایک مظاہرہ اور لانگ مارچ کا اعلان شامل تھا۔

جماعت اسلامی (جے آئی) نے حکومت کے خلاف اپنے احتجاج کو وسعت دیتے ہوئے لانگ مارچ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما حلیم عادل شیخ نے جماعت اسلامی (جے آئی) کے لاہور میں جاری دھرنے پر عوامی سطح پر طنز کیا ہے۔

جماعت اسلامی نے پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے خلاف لاہور کی مال روڈ پر دھرنا دیا ہے۔

مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمٰن نے اعلان کیا کہ احتجاج جاری رہے گا۔ یہ دھرنا ایندھن کی قیمتوں میں اضافے پر عوامی سطح پر پائے جانے والے شدید غم و غصے کے بعد دیا گیا ہے، جس نے مہنگائی کے بوجھ میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق لاہور کے شہریوں نے حکومت کی جانب سے پیٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے فیصلے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ عوامی مایوسی ملک بھر میں پہلے سے موجود مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر رہی ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Business Recorder

JI to continue sit-ins as talks with govt fail

ISLAMABAD: Talks between the Jamaat-e-Islami (JI) and the government over the petroleum levy and fuel prices ended without any agreement on Thursday, prompting the JI to announce that it would continue its protest and sit-ins against the government.

GNN

Responses

>