سینیٹ کمیٹی نے تیزاب حملوں کے مجرموں کے لیے سزائے موت کا بل منظور کر لیا
ایک نظر میں
- سینیٹ کمیٹی نے تیزاب حملوں کے لیے سزائے موت کا بل منظور کر لیا ہے۔
- بل میں مجرموں کے لیے کم از کم 14 سال قید اور 20 لاکھ روپے جرمانے کی تجویز ہے۔
- گھریلو ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کو جرم قرار دینے کا ایک علیحدہ بل بھی متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
اب تک کی صورتحال
پیر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے، سینیٹر فیصل سلیم رحمان کی زیر صدارت، فوجداری قانون میں اہم ترامیم کی منظوری دی۔ ان میں سب سے اہم بل تیزاب حملوں کے لیے سزائے موت، عمر قید یا کم از کم 14 سال قید کی سزا تجویز کرتا ہے، جس میں ایسے جرائم کے مسلسل رونما ہونے کا حوالہ دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے گھریلو ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کو جرم قرار دینے کا بل بھی متفقہ طور پر منظور کیا، جس میں سنگین مقدمات میں عمر قید تک کی سزائیں متعارف کرائی گئی ہیں۔ یہ اقدامات وزیر مملکت برائے داخلہ کی مخالفت کے باوجود منظور کیے گئے۔
تازہ ترین پیش رفت
سینیٹ کی ایک کمیٹی نے پیر کو تیزاب پھینکنے والے مجرموں کے لیے سزائے موت تجویز کرنے والے بل کی منظوری دے دی، اس کے ساتھ ساتھ گھریلو ملازمین کے ساتھ بدسلوکی کو جرم قرار دینے کا ایک اور بل بھی منظور کیا گیا۔ یہ قانون سازی اب پارلیمانی عمل میں آگے بڑھے گی۔
ذرائع اور اپڈیٹس
Senate panel passes bill proposing death penalty for perpetrators of acid attacks
ISLAMABAD: The Senate Standing Committee on Interior on Monday passed a series of key criminal law amendments, including a bill proposing the death penalty for acid attacks, as it moved to strengthen protections for vulnerable groups and public safet
Senate Panel Passes Bill Seeking Death Penalty for Acid Attacks
The Senate Standing Committee on Interior on Monday approved several amendments to criminal laws, including legislation seeking the death penalty…
Responses