مرکزی خبر پر جائیں

ٹرمپ نے ایران میں 18 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی، نوبل انعام پر شکایت

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: ٹرمپ نے ایران میں 18 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی، نوبل انعام پر شکایت
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • امریکی صدر ٹرمپ نے ایران تنازعے میں 18 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔
  • ٹرمپ نے تنازعے کو 'معمولی معاملہ' قرار دیا لیکن نطنز کے قریب ایک مقام کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی۔
  • امریکی صدر نے مبینہ طور پر نوبل امن انعام نہ ملنے کی شکایت بھی کی۔

اب تک کی صورتحال

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازعے میں 18 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ 5 ستمبر کو یہ تصدیق ملے جلے پیغامات کے ایک دور کے بعد ہوئی، جہاں ٹرمپ نے پہلے تنازعے کو "معمولی معاملہ" قرار دیا تھا جبکہ ایران کی نطنز یورینیم افزودگی کی تنصیب کے قریب ایک پہاڑی مقام کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی تھی۔ امریکی صدر نے ایران پر حملے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے اور امریکی اسلحہ کے ذخائر میں کمی کی خبروں کو مسترد کیا ہے۔ الگ سفارتی کوششوں میں، انہوں نے روس اور یوکرین میں جنگ کے خاتمے کی تجویز پیش کرنے کے لیے اپنے نمائندے بھی بھیجے ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازعے میں 18 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مبینہ طور پر نوبل امن انعام نہ ملنے کی شکایت بھی کی۔

تازہ ترین اپڈیٹس

جمعہ، 5 ستمبر کو موصولہ اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازعے میں 18 امریکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ انہی ریمارکس میں، انہوں نے مبینہ طور پر نوبل امن انعام نہ ملنے کی شکایت بھی کی۔

جمعہ، 5 ستمبر کو ایک نئے بیان میں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر ایران کے ساتھ جاری تنازعے میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد ظاہر کی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ، 5 ستمبر کو ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم اہم ظاہر کرتے ہوئے تنازع کو 'اسمال پوٹیٹوز' (معمولی معاملہ) قرار دیا۔

یہ تبصرہ اسی دن ایک مخصوص دھمکی جاری کرنے کے فوراً بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے ایران کی نتنز یورینیم افزودگی کی تنصیب کے قریب ایک حساس مقام کو نشانہ بنانے کی بات کی تھی۔

ذرائع اور اپڈیٹس

GNN
GNN
GNN

Responses

>