پمز آتشزدگی: تحقیقات جاری، امدادی کارروائیوں اور آخری لمحات پر سوالات اٹھ گئے
ایک نظر میں
- انگلینڈ نے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست دی۔
- اس جیت سے انگلینڈ کو سیریز میں 2-0 کی فیصلہ کن برتری حاصل ہوگئی۔
- اس فتح نے ٹیسٹ رینکنگ میں بھی انگلینڈ کی پوزیشن کو بہتر بنایا ہے۔
اب تک کی صورتحال
انگلینڈ نے دوسرے ٹیسٹ میں پاکستان کو 194 رنز سے شکست دے کر 2-0 سے سیریز اپنے نام کر لی۔ 389 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستانی ٹیم چوتھے روز 194 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی، حالانکہ سعود شکیل اور شان مسعود کے درمیان 97 رنز کی شراکت قائم ہوئی تھی۔ پاکستان کے لیے، بولر محمد عباس نے میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انگلینڈ کی دوسری اننگز میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔
تازہ ترین پیش رفت
سیریز میں فیصلہ کن فتح کے بعد، انگلینڈ نے بین الاقوامی ٹیسٹ رینکنگ میں اپنی پوزیشن بہتر کر لی ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
لارڈز میں فتح کے بعد، انگلینڈ نے بین الاقوامی ٹیسٹ رینکنگ میں بھی اپنی پوزیشن بہتر کر لی ہے۔
پمز ہسپتال میں مہلک آتشزدگی کی تحقیقات میں مزید پیش رفت سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم کے حکم پر فوجداری کارروائی کے باقاعدہ تحریری احکامات ابھی تک جاری نہیں کیے جا سکے۔ دریں اثنا، اس بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ واقعے کے دوران ریسکیو ٹیموں کو کس نے روکا تھا۔ ایک نئے بیان میں، ڈاکٹر طارق فضل نے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302، جو قتل سے متعلق ہے، کے تحت کارروائی کا امکان ظاہر کیا ہے، جس سے ذمہ داروں کے احتساب پر بحث میں شدت آ گئی ہے۔
پمز ہسپتال میں مہلک آتشزدگی کی تحقیقات میں مزید سوالات سامنے آئے ہیں، اتوار کی شب رپورٹس میں ریسکیو آپریشن اور واقعے کے آخری لمحات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق، یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ آیا امدادی ٹیموں کو ان کے ردعمل کے دوران روکا گیا تھا۔ مزید برآں، اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ سانحے کے آخری دو منٹ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دریں اثنا، صحت کے ماہرین نے بھی اس واقعے پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر امجد محمود نے کہا کہ عملے کی مناسب ہنگامی تربیت سے اس سانحے کو روکا جا سکتا تھا۔ ایک علیحدہ پیشرفت میں، ڈاکٹر جاوید اکرم نے مبینہ طور پر ہسپتال کے ماضی کے آڈٹ کے بارے میں انکشافات کیے ہیں۔ یہ پیشرفت اس عوامی بحث کے درمیان ہوئی ہے کہ آیا آٹھ اہلکاروں کی معطلی کافی ہے، کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ اصل ذمہ داروں کو ابھی تک جوابدہ نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔
اتوار، 30 اگست کو ایک متعلقہ پیشرفت میں، سیاستدان ثمر ہارون بلور نے بیان دیا کہ پمز واقعے سے متعلق بڑی تبدیلیاں آئندہ آٹھ سے دس دنوں میں متوقع ہیں۔
پمز آتشزدگی کے ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت کے بعد، اتوار کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس کارروائی کے لیے باقاعدہ تحریری احکامات ابھی تک جاری نہیں کیے گئے ہیں۔
ایک علیحدہ پیش رفت میں، یہ اعلان کیا گیا ہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں نے اس سانحے اور اس کے بعد کی تحقیقات پر تبادلہ خیال کے لیے اگلے روز اجلاس طلب کر لیے ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ہولناک آتشزدگی کے واقعے کے بعد وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال مبینہ طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ یہ پیشرفت عبوری تحقیقاتی رپورٹ کے اجرا کے بعد ہوئی ہے جس میں شدید ادارہ جاتی غفلت کی نشاندہی کی گئی تھی اور جس کے نتیجے میں آٹھ سینئر افسران کو معطل کر دیا گیا تھا۔
Responses