مرکزی خبر پر جائیں

کراچی ڈی ایچ اے جھگڑا: وائرل ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کی عبوری ضمانت منظور

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: کراچی ڈی ایچ اے جھگڑا: وائرل ویڈیو میں نظر آنے والی خاتون کی عبوری ضمانت منظور
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • کراچی میں پرتشدد جھگڑے کی وائرل ویڈیو میں نظر آنے والی ملزمہ خاتون کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔
  • ڈی ایچ اے میں پیش آنے والے اس واقعے میں پڑوسیوں کے درمیان تنازع پر ڈمبل سے حملہ کیا گیا تھا۔
  • جھگڑے اور پولیس کی جانب سے کیس کو ہینڈل کرنے کے طریقہ کار پر سرکاری انکوائری جاری ہے۔

اب تک کی صورتحال

کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں پڑوسیوں کے درمیان ایک پرتشدد جھگڑے کے بعد انکوائری جاری ہے، جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج وائرل ہونے کے بعد یہ معاملہ وسیع پیمانے پر سامنے آیا۔ ویڈیو میں ایک خاتون کو دوسری پر ڈمبل سے حملہ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا، اور بعد میں مبینہ حملہ آور کی جانب سے ایک جوابی ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی۔ تازہ ترین پیش رفت میں، وائرل ویڈیو میں نظر آنے والی ملزمہ خاتون کی عبوری ضمانت منظور کر لی گئی ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

کراچی کی ایک عدالت نے خیابان بخاری فلیٹ جھگڑے کے وائرل کیس میں ملوث خاتون کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

کراچی کی ایک عدالت نے خیابان بخاری فلیٹ جھگڑے کے وائرل کیس میں ملوث خاتون کی عبوری ضمانت منظور کر لی ہے۔

کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں ہونے والے پرتشدد جھگڑے کی جاری تحقیقات میں متاثرہ فیملی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب پولیس نے وائرل سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والے اہلکاروں کی شناخت کے حوالے سے بھی وضاحت جاری کی۔

کراچی کے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) میں ہونے والے جھگڑے کی وائرل ویڈیو کی تحقیقات میں ایک نئی پیشرفت ہوئی ہے، پولیس نے مقدمے میں درج فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) سے چھینا جھپٹی اور چوری کی دفعات خارج کر دی ہیں۔ تفتیشی پولیس کے مطابق، کیس کا چالان ابھی تک جمع نہیں کرایا گیا ہے۔

دریں اثنا، واقعے کی ایک دوسری ویڈیو بھی منظر عام پر آئی ہے، جس میں متاثرہ خاتون، جن کی شناخت نور العین کے نام سے ہوئی ہے، کو زخمی اور خوفزدہ حالت میں دکھایا گیا ہے، اور اطلاعات کے مطابق ان کے ناک اور منہ سے خون بہہ رہا تھا۔

حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ انکوائری جاری ہے اور جانبداری کا مظاہرہ کرنے والے کسی بھی پولیس اہلکار کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ اطلاعات کے مطابق اصل سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا سادہ لباس اہلکار مبینہ طور پر کورنگی پولیس کا اہلکار ہے، جس سے تحقیقات کے حصے کے طور پر پوچھ گچھ کی جائے گی۔

واقعے کے بعد قانونی کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ 21 اگست کو درخشاں تھانے میں ایک فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کی گئی، جو ویڈیو میں ڈمبل اٹھائے نظر آنے والی خاتون کی شکایت پر مبنی ہے۔

اپنی شکایت میں، خاتون نے الزام لگایا کہ پڑوسی اپارٹمنٹ کے ایک مرد، اس کی بہن اور ان کی والدہ نے پارکنگ کے مسئلے پر تنازع شروع کیا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وہ اس کے دروازے پر آئے، اسے لات ماری، اور جب اس نے دروازہ کھولا تو اس پر اور اس کے اہل خانہ پر حملہ کر دیا۔ متاثرہ خاندان کے خلاف درج ایف آئی آر میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعات شامل ہیں جن میں خواتین کی بے حرمتی کے ارادے سے حملہ (354)، مجرمانہ دھمکی (506)، اور نقصان پہنچانے کی تیاری کے بعد چوری (382) شامل ہیں۔

ایس ایس پی کورنگی نے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں ایک خاتون کی جانب سے اپنی پڑوسن پر تشدد کی وائرل ویڈیو کے حوالے سے وضاحت جاری کرتے ہوئے واقعے میں ملوث خاتون سے کسی بھی قسم کے تعلق کی تردید کی ہے۔

کراچی کے علاقے ڈیفنس کی وائرل ویڈیو میں پڑوسیوں پر تشدد کرتی نظر آنے والی خاتون کی شناخت سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) فدا حسین کی رشتہ دار کے طور پر ہوئی ہے۔ نئی معلومات کے مطابق تشدد کا نشانہ بننے والے بہن بھائی تھے۔

ہفتے کے روز پولیس نے تصدیق کی کہ سوشل میڈیا پر جھگڑے کی ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے واقعے کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

حکام کے مطابق، ایس ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ توحید الرحمٰن کو تحقیقات کی سربراہی سونپی گئی ہے، جس میں جھگڑے کے حالات اور اس کے بعد مقدمے کے اندراج دونوں کا جائزہ لیا جائے گا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ کیس کا چالان ابھی تک جمع نہیں کرایا گیا ہے اور مبینہ طور پر چھینا جھپٹی اور چوری سے متعلق دفعات کو کیس سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ڈی آئی جی نے کہا کہ اگر کوئی جانبداری یا بے ضابطگی ثابت ہوئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جس میں ملوث پائے جانے والے پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔

ذرائع اور اپڈیٹس

YouTube · ARY News
YouTube · ARY News
YouTube · Dawn News
YouTube · Capital TV
مزید 17 تصدیق شدہ ذرائع

Responses

>