مرکزی خبر پر جائیں

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے قیدیوں کی نجی علاج کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے قیدیوں کی نجی علاج کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی درخواستوں پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔
  • درخواست گزار نجی طبی علاج اور بیرون ملک اہل خانہ سے رابطے کی اجازت چاہتے ہیں۔
  • درخواستوں میں عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیا گیا ہے۔

اب تک کی صورتحال

اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں — اویس الطاف، الیاس خان، اور محمد اسماعیل — نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے کہ انہیں ایک نجی ہسپتال میں علاج کرانے اور ٹیلی فون کے ذریعے اہل خانہ سے بات کرنے کی اجازت دی جائے۔ ان کی درخواستوں میں سپریم کورٹ کے اس حکم کا حوالہ دیا گیا ہے جس نے پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کو بھی ایسی ہی سہولت فراہم کی تھی۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ سرکاری سہولیات میں ضروری طبی دیکھ بھال دستیاب نہیں ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اڈیالہ جیل کے تین قیدیوں کی جانب سے نجی طبی علاج اور بیرون ملک مقیم رشتہ داروں سے رابطے کی اجازت کی درخواستوں پر اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ قیدیوں کے حقوق کو صرف اس لیے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ وہ سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>