مرکزی خبر پر جائیں

باقر قالیباف نے امریکی پابندیوں پر چین کے مؤقف کا خیرمقدم کیا

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: باقر قالیباف نے امریکی پابندیوں پر چین کے مؤقف کا خیرمقدم کیا
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • ایرانی سیاسی شخصیت باقر قالیباف نے امریکی پابندیوں پر چین کی مخالفت کا خیرمقدم کیا ہے۔
  • تہران واشنگٹن کی اقتصادی دباؤ کی مہم پر تنقید جاری رکھے ہوئے ہے۔
  • امریکہ نے ایران کے خلاف پابندیاں برقرار رکھنے کی کوششوں کی تصدیق کی ہے۔

اب تک کی صورتحال

ایران امریکی اقتصادی پابندیوں کی کھل کر مخالفت کرتا رہا ہے، اور مختلف حکام نے پہلے انہیں 'اقتصادی دہشت گردی' اور غیر مؤثر قرار دیا ہے۔ تہران نے ان اقدامات پر چین کی مخالفت کا خیرمقدم کیا ہے، اور اب سیاسی شخصیت باقر قالیباف نے بھی اسی مؤقف کا اظہار کیا ہے۔ امریکہ نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایران پر اقتصادی دباؤ ڈالنا جاری رکھے گا۔

تازہ ترین پیش رفت

ایرانی سیاسی شخصیت باقر قالیباف نے جاری امریکی پابندیوں کے خلاف چین کے مؤقف کا خیرمقدم کیا ہے، جس سے تہران کے سفارتی ردعمل میں ایک اور آواز کا اضافہ ہوا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

رپورٹس کے مطابق، ایرانی سیاسی شخصیت باقر قالیباف نے 28 اگست کو تہران کے خلاف جاری امریکی پابندیوں پر چین کی مخالفت کا خیرمقدم کیا ہے۔

یہ پیشرفت ایران کی وزارت خارجہ اور صدر کے ان پہلے بیانات کے بعد ہوئی ہے جن میں بیجنگ کے مؤقف کا خیرمقدم کیا گیا تھا اور واشنگٹن کی اقتصادی دباؤ کی مہم کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

جمعرات، 27 اگست کو موصولہ اطلاعات کے مطابق، ایران نے جاری امریکی پابندیوں پر چین کی سخت مخالفت کا خیرمقدم کیا ہے۔

اس پیش رفت نے اقتصادی اقدامات پر واشنگٹن کے ساتھ تہران کے جاری تنازع میں ایک اہم سفارتی عنصر کا اضافہ کیا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی امریکی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے واشنگٹن کی ایران مخالف پالیسی کو ”مذاق“ قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں بقائی نے کہا کہ امریکا بحرین جیسے ممالک کو شامل کرکے اپنی اتحادی مہم کو کامیاب ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جن کے ساتھ ایران کے پہلے ہی نہ ہونے کے برابر معاشی تعلقات ہیں۔ انہوں نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ پہلے سے روکے گئے کھیلوں اور تعلیمی تبادلوں کی معطلی کو نئے اقدامات کے طور پر پیش کر رہا ہے، اور مؤثر طریقے سے ”خلا میں ایران کے خلاف اتحاد“ بنا رہا ہے۔

ترجمان نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ایران امریکی اقتصادی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے تمام دستیاب دوطرفہ ذرائع بروئے کار لائے گا۔

یہ پیشرفت امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے بحرین کے وزیر خزانہ شیخ سلمان بن خلیفہ آل خلیفہ کے ساتھ ایران پر مالی دباؤ برقرار رکھنے پر بات چیت کی تصدیق کے بعد سامنے آئی ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>