مرکزی خبر پر جائیں

گوگل پاکستان میں دفتر کھولے گا، ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: گوگل پاکستان میں دفتر کھولے گا، ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • گوگل اور پاکستان نے ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے کے لیے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔
  • معاہدے کے تحت گوگل پاکستان میں ایک دفتر کھولے گا۔
  • گوگل 150,000 کیریئر سرٹیفکیٹ فراہم کرے گا اور ایک AI سینٹر آف ایکسیلنس قائم کرے گا۔

اب تک کی صورتحال

حکومت پاکستان اور گوگل نے ملک کی ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے کے مقصد سے ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے ہیں۔ وزیر مملکت برائے آئی ٹی شازہ فاطمہ کی طرف سے تصدیق شدہ اس معاہدے میں گوگل کی جانب سے پاکستان میں دفتر کھولنے کے منصوبے شامل ہیں۔ ایم او یو کے تحت اہم اقدامات میں گوگل کی جانب سے 150,000 کیریئر سرٹیفکیٹس کی فراہمی، اسلام آباد میں اے آئی سینٹر آف ایکسیلنس کا قیام، اور طلباء کو ایک سال کے لیے جدید اے آئی ٹولز تک مفت رسائی دینا شامل ہے۔ یہ تعاون پاکستان کے 2030 تک اپنی آئی ٹی برآمدات کو 30 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کا حصہ ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

پاکستان اور گوگل نے ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنے کے لیے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں، جس میں ٹیک دیو کا پاکستان میں دفتر کھولنا اور 2026 میں 150,000 کیریئر سرٹیفکیٹ فراہم کرنا شامل ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

وزیر مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شازہ فاطمہ نے تصدیق کی ہے کہ گوگل پاکستان میں اپنا دفتر کھولنے جا رہا ہے، اس اقدام سے ملک کے ٹیک سیکٹر میں ملازمت کے نئے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔

یہ اعلان پاکستان اور ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنی کے درمیان جمعہ کو ہونے والے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے بعد سامنے آیا ہے، جس کا مقصد ملک کی ڈیجیٹل تبدیلی کو تیز کرنا ہے۔

پاکستان اور گوگل کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے بعد، ملک میں گوگل کا دفتر قائم کرنے کی جانب بڑی پیشرفت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

پاکستان اور گوگل کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ معاہدے پر باضابطہ طور پر سیکرٹری وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن، ضرار ہاشم خان، اور گوگل کے جنوب مشرقی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے پبلک پالیسی کے سربراہ، ڈیوڈ ویلر نے دستخط کیے۔

اس تعاون میں پاکستانی چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو عالمی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ قائم کردہ ٹاسک فورس آئی ٹی برآمدات کے لیے ایک روڈ میپ بنانے اور ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔ اس اقدام کو وزیراعظم کے پاکستان کی آئی ٹی برآمدات اور ڈیجیٹل معیشت کو 2030 تک 30 ارب ڈالر تک پہنچانے کے وژن کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا گیا ہے۔

وزیر اعظم آفس کے مطابق، معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے حکومت، گوگل اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے نمائندوں پر مشتمل ایک ٹاسک فورس قائم کی جائے گی۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>