مرکزی خبر پر جائیں

حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجا جا سکتا ہے

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کو علاج کے لیے بیرون ملک بھیجا جا سکتا ہے
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • حکومت کا کہنا ہے کہ وہ عمران خان کی طبی دیکھ بھال سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل کرے گی۔
  • وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر بیرون ملک علاج ممکن ہے۔
  • حکومت طبی امداد کے حکم کے دائرہ کار پر سپریم کورٹ سے وضاحت طلب کر رہی ہے۔

اب تک کی صورتحال

وفاقی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو بانی پی ٹی آئی عمران خان کو بیرون ملک علاج کرانے کی اجازت دی جائے گی۔ یہ معاملہ سینیٹ میں اٹھایا گیا، جہاں حکومت نے تصدیق کی کہ وہ قیدیوں کو طبی امداد سے متعلق حالیہ حکم پر سپریم کورٹ سے وضاحت طلب کر رہی ہے۔ حکومت نے واضح ہونے کے بعد عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا عزم ظاہر کیا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ حکومت بانی پی ٹی آئی عمران خان کے طبی علاج کے حوالے سے سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل کرے گی، جس میں پاکستان میں مناسب دیکھ بھال دستیاب نہ ہونے کی صورت میں انہیں بیرون ملک بھیجنا بھی شامل ہو سکتا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

جمعرات کو پی ٹی آئی کے بانی عمران خان کے ممکنہ بیرون ملک علاج کے حوالے سے حکومتی بیان سینیٹ کے اجلاس کے دوران سامنے آیا، جہاں اپوزیشن نے دیگر زیر حراست سیاسی شخصیات کے لیے صحت کی سہولیات کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔

پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ حکومت نے سپریم کورٹ سے وضاحت طلب کی ہے کہ آیا طبی ریلیف دینے کا حالیہ حکم صرف ایک فرد تک محدود ہے یا دیگر قیدیوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ ان کے یہ ریمارکس سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کے ایک نکتہ اعتراض کے بعد سامنے آئے، جنہوں نے دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں بشمول ڈاکٹر یاسمین راشد کی صحت کی حالت پر روشنی ڈالی۔

بحث کے دوران، پی ٹی آئی سینیٹر محسن عزیز نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے برطانیہ میں علاج کا حوالہ دیتے ہوئے ایک تبصرہ کیا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>