بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی دہشتگردانہ کوششیں ہر قیمت پر ناکام بنائیں گے، صدر زرداری
ایک نظر میں
- صدر زرداری کا عزم ہے کہ بلوچستان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کو 'ہر قیمت پر' ناکام بنایا جائے گا۔
- وزیراعلیٰ بگٹی سے ملاقات صوبے میں انفراسٹرکچر پر حالیہ حملوں کے دوران ہوئی ہے۔
- سیکورٹی فورسز نے حال ہی میں بلوچستان میں متعدد انسداد دہشت گردی آپریشن کیے ہیں۔
اب تک کی صورتحال
صدر آصف علی زرداری نے وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ملاقات کر کے صوبے کی سیکیورٹی اور ترقیاتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ صدر نے کہا کہ "غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردوں" کی ترقی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا جائے گا۔ یہ ملاقات بلوچستان میں گیس پائپ لائن اور بجلی کے انفراسٹرکچر پر حالیہ حملوں کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے ایک سلسلے کے بعد ہوئی ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
صدر آصف علی زرداری کا بلوچستان میں ترقی کو تحفظ فراہم کرنے کا عزم حالیہ دہشت گرد حملوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جن میں گیس پائپ لائن اور بجلی کے کھمبوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سیکیورٹی فورسز نے بھی حالیہ دنوں میں صوبے میں متعدد انسداد دہشت گردی آپریشن کیے ہیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
بدھ کو ہونے والی یہ ملاقات صوبے میں حالیہ سیکیورٹی واقعات کے پس منظر میں ہوئی۔ گزشتہ ہفتے کچھی ضلع کے علاقے بولان میں نامعلوم حملہ آوروں نے گیس کی مرکزی پائپ لائن کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔ جولائی میں، ڈیرہ مراد جمالی میں اوچ پاور پلانٹ کے قریب حملہ آوروں نے 220 کلو وولٹ کے دو ٹرانسمیشن پائلن تباہ اور دو کو نقصان پہنچایا تھا، جس سے بلوچستان کے کئی حصوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی تھی۔
دریں اثنا، سیکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے خلاف حالیہ کئی آپریشنز کیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، زیارت، ہرنائی اور سوراب کے علاقوں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز (آئی بی اوز) کے دوران نو دہشت گرد مارے گئے۔ اس سے قبل کلی زیک اور خاران کے علاقوں میں ہونے والے آپریشنز میں بھی متعدد دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے۔
Responses