متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان میزائل دعووں پر کشیدگی، یو اے ای کی اسٹاک مارکیٹس میں مندی
ایک نظر میں
- متحدہ عرب امارات نے ایران کے ساتھ تمام تجارتی اور اقتصادی لین دین معطل کر دیا ہے۔
- کشیدگی کے دوران ابوظہبی کا اسٹاک انڈیکس 0.9 فیصد اور دبئی کا 0.3 فیصد گر گیا۔
- ایران کے پاسداران انقلاب نے مبینہ طور پر یو اے ای سے منسلک ایک ٹینکر قبضے میں لے لیا ہے، جس کی یو اے ای سے تصدیق کا انتظار ہے۔
اب تک کی صورتحال
متحدہ عرب امارات اور ایران کے درمیان کشیدگی میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ یو اے ای نے وزارت دفاع کی جانب سے ایران سے بحری جہاز رانی کو نشانہ بنانے والے دو بیلسٹک میزائل فائر کرنے کے دعوے کے بعد ایران کے ساتھ تمام تجارت معطل کر دی ہے۔ ایران نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ اس کے بعد، ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب نے مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات سے منسلک ایک ٹینکر کو قبضے میں لے لیا، تاہم متحدہ عرب امارات کی جانب سے سرکاری تصدیق کا ابھی انتظار ہے۔ اس سفارتی اور فوجی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے متحدہ عرب امارات کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی آئی ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
متحدہ عرب امارات کی اسٹاک مارکیٹوں میں بدھ کے روز مندی دیکھی گئی، ابوظہبی کا بینچ مارک انڈیکس 0.9 فیصد اور دبئی کا انڈیکس 0.3 فیصد گر گیا، جو ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی پر سرمایہ کاروں کی تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
ایران کی فارس نیوز ایجنسی کی بدھ کو جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، ایران کے اسلامی پاسداران انقلاب (IRGC) نے متحدہ عرب امارات سے منسلک ایک ٹینکر کو قبضے میں لے لیا ہے۔
یہ پیشرفت آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کے جہاز کو قبضے میں لینے سے متعلق ایرانی سرکاری میڈیا کی سابقہ رپورٹس کی تصدیق کرتی ہے۔
متحدہ عرب امارات کے اس دعوے کے بعد کہ اس نے ایران سے داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کا پتہ چلایا ہے، بدھ کو اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان رہا۔ ابوظہبی کا بینچ مارک انڈیکس 0.9 فیصد گر گیا، جبکہ دبئی کا مرکزی انڈیکس 0.3 فیصد کم ہوا۔ اس گراوٹ کو بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی پر سرمایہ کاروں کے ردعمل سے منسوب کیا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا رپورٹس کے مطابق، ایران نے بدھ، 19 اگست کو متحدہ عرب امارات کے ایک ٹینکر کو آبنائے ہرمز کے شمالی راستے سے قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ جہاز متحدہ عرب امارات کی بندرگاہ جبل علی کی طرف جا رہا تھا جب اسے روکا گیا۔ ٹینکر کو مبینہ طور پر ایرانی بندرگاہ بندر عباس منتقل کیا جا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی جانب سے سرکاری تصدیق کا انتظار ہے۔ پاکستان نیوز مزید مصدقہ تفصیلات دستیاب ہونے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔
منگل، 19 اگست کو موصول ہونے والی تازہ اطلاعات میں متحدہ عرب امارات میں تیل کی تنصیبات پر میزائل حملوں اور آگ لگنے کے دعووں کے ساتھ کشیدگی میں مزید اضافے کا اشارہ دیا گیا ہے۔ ان تازہ ترین اطلاعات سے متعلق تفصیلات غیر مصدقہ ہیں۔
Responses