وزیراعظم شہباز شریف کا بیرسٹر گوہر کی والدہ کے انتقال پر اظہار تعزیت
ایک نظر میں
- وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا دورہ مکمل کر کے پاکستان واپس آ گئے ہیں۔
- انہوں نے بیرسٹر گوہر کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔
- دورے کے دوران مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
اب تک کی صورتحال
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا تین روزہ سرکاری دورہ مکمل کیا، جس کے دوران انہوں نے عمرہ ادا کیا اور مسجد نبوی میں حاضری دی۔ ایک اہم مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے، جس کا مقصد دفاعی تعاون کو بڑھانا اور برادرانہ تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔ اس دورے میں مشترکہ تربیت، انٹیلی جنس اور فوجی ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں عملی ہم آہنگی پر توجہ دی گئی۔ وزیراعظم اب پاکستان واپس آ چکے ہیں اور انہوں نے بیرسٹر گوہر کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب سے واپسی پر بیرسٹر گوہر کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور ان کے اہل خانہ کے لیے دعا کی۔
تازہ ترین اپڈیٹس
مدینہ منورہ سے پاکستان واپسی پر، وزیراعظم شہباز شریف نے بیرسٹر گوہر کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کی، یہ کہتے ہوئے کہ اس مشکل گھڑی میں ان کی تمام تر ہمدردیاں بیرسٹر گوہر علی اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا تین روزہ دورہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں پاکستان کی سیاسی، اقتصادی اور دفاعی پوزیشن کو از سر نو ترتیب دینے کے مقصد سے کیا گیا۔ فیلڈ مارشل سی ڈی ایف عاصم منیر کی موجودگی نے دورے کے سیاسی اور فوجی پہلوؤں کو اجاگر کیا، جس میں پاکستان علاقائی سلامتی میں حصہ ڈالنے والے ایک اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر پہچانا جانا چاہتا ہے، نہ کہ صرف اقتصادی امداد کا فائدہ اٹھانے والا۔ اس دورے کا مقصد موجودہ سیاسی وعدوں کو عملی تعاون میں بدلنا تھا، خاص طور پر دفاعی تعاون میں۔ تعاون کے لیے شناخت کیے گئے اہم شعبوں میں مشترکہ تربیت، انٹیلی جنس تعاون، فضائی دفاع، انسداد دہشت گردی، فوجی ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداوار شامل ہیں۔
اقتصادی طور پر، پاکستان زرعی، غذائی تحفظ، بندرگاہوں، شاہراہوں، ہوائی اڈوں اور توانائی جیسے پیداواری شعبوں میں سعودی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے، تاکہ ڈپازٹس، قرضوں اور مؤخر ادائیگیوں پر انحصار سے آگے بڑھا جا سکے۔
وزیر اعظم شہباز شریف سعودی عرب کا اپنا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد مدینہ منورہ سے پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔ ان کے دورے کے دوران، مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر وزیر اعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے۔ توقع ہے کہ یہ معاہدہ تینوں اقوام کے درمیان دفاعی تعاون اور برادرانہ تعلقات میں نئی جہتیں شامل کرے گا۔
مدینہ ایئرپورٹ پر، گورنر شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز آل سعود نے وزیر اعظم اور پاکستانی وفد کو الوداع کیا۔ وفد میں نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، اور معاون خصوصی سید طارق فاطمی شامل تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف سعودی عرب کا اپنا سرکاری دورہ مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپس پہنچ گئے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا اپنا دورہ مکمل کر لیا ہے اور ہفتے کے روز مدینہ منورہ سے پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔
روانگی سے قبل وزیراعظم نے مسجد نبوی ﷺ میں حاضری دی، جہاں انہوں نے روضہ رسول ﷺ پر حاضری دی اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے دورے کے دوران عمرہ کی سعادت بھی حاصل کی۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق، دورے کے دوران پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان ایک اہم سہ فریقی دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو بڑھانا اور تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔
مدینہ کے ایئرپورٹ پر گورنر شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز نے وزیراعظم اور پاکستانی وفد کو الوداع کیا۔ وفد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی شامل تھے۔
مدینہ کے گورنر، شہزادہ سلمان بن سلطان نے وزیر اعظم شہباز شریف کو الوداع کہا جب انہوں نے سعودی عرب کا اپنا سرکاری دورہ مکمل کیا اور پاکستان کے لیے روانہ ہوئے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کا اپنا سرکاری دورہ مکمل کر لیا ہے اور وہ پاکستان کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔ اس دورے کے دوران ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا پاکستانی وفد بھی تھا۔
Responses