ایران تنازعہ کے درمیان امریکی فوجی ذخائر میں کمی
ایک نظر میں
- ایران کے ساتھ پانچ ماہ کے تنازعہ کے بعد امریکی فوجی ذخائر میں کمی کی اطلاع ہے۔
- ٹرمپ انتظامیہ ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافے پر زور دے رہی ہے۔
- ایرانی صدر پزشکیان کا کہنا ہے کہ حکومت کو جنگ کے معاملات پر فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
اب تک کی صورتحال
رپورٹس کے مطابق، ایران کے ساتھ پانچ ماہ کے تنازعہ کے بعد امریکی فوجی ذخائر، خاص طور پر میزائل اور گولہ بارود، میں نمایاں کمی آئی ہے، جو امریکی ابتدائی تخمینوں سے زیادہ طویل رہا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافے اور ترسیل کو تیز کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں، وزیر دفاع اسٹیو فینبرگ نے تیز رفتار پیداوار کے لیے ایک ہدایت جاری کی ہے۔ تاہم، صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے پاس گولہ بارود کے کافی ذخائر موجود ہیں۔ دریں اثنا، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ تہران جنگ کو جاری رکھنے یا بڑھانے کا خواہاں نہیں ہے، ایران اپنی سرحدوں کا دفاع کرنے کے عزم پر زور دیتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی حکومت کو جنگ کے معاملات پر فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ حکومت کو جنگ کے معاملات پر فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں ہے، جبکہ امریکی فوجی ذخائر میں کمی کی اطلاعات ہیں۔
تازہ ترین فیکٹ چیکس
US Seeks Faster Weapons Production as Iran War Hits Munitions Stocks
The Trump administration has sought increase in weapons production and early deliveries, particularly munitions that have become scarce amid the…
دشمن میزائلوں سے ایران کو نہیں جھکا سکتا، صدر مسعود پزشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ دشمن میزائلوں سے ہمیں نہیں جھکا سکتا۔
Responses