ایران تنازعہ کی رپورٹس کے درمیان امریکی میزائل ذخائر کے دعووں کی تردید
ایک نظر میں
- میڈیا رپورٹس میں ایران تنازعہ کے دوران امریکی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
- پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے ان دعووں کی سختی سے تردید کی ہے۔
- بحث میں ATACMS، Tomahawk، Patriot، اور PRSM جیسے نظاموں کا ذکر شامل ہے۔
اب تک کی صورتحال
نامعلوم حکام کے حوالے سے میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ تنازعہ کے دوران اپنے جدید طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں، جیسے ATACMS، Tomahawk، اور Patriot نظاموں کے ذخائر کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے۔ ان رپورٹس میں الزام لگایا گیا کہ امریکی میزائلوں کا 80 فیصد ختم ہو گیا اور Tomahawk اور Patriot میزائلوں کی تعداد تقریباً نصف کم ہو گئی۔ کچھ ذرائع نے تجویز دی کہ فوجی حکام نے صدر کو کم ہوتے ذخائر کے بارے میں خبردار کیا تھا اور یہ کہ امریکہ یورپ میں اپنے ذخائر سے گولہ بارود منتقل کر رہا تھا۔ تاہم، پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس دونوں نے ان دعووں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ امریکی فوج طاقتور ہے اور اس کے پاس کافی وسائل ہیں۔ بحث میں اب PRSM (Precision Strike Missile) نظام بھی شامل ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
میڈیا رپورٹس میں مسلسل دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ امریکہ نے ایران کے ساتھ تنازعہ کے دوران اپنے جدید طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذخائر کو نمایاں طور پر کم کر دیا ہے، حالانکہ پینٹاگون اور وائٹ ہاؤس نے ان دعووں کی سختی سے تردید کی ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازعہ کے دوران امریکی میزائلوں کا 80% حصہ ختم ہو گیا ہے۔
ریاستہائے متحدہ کے میزائل ذخائر کے بارے میں بحث میں اب PRSM (پریسیژن سٹرائیک میزائل) سسٹم کا خاص طور پر ذکر شامل ہو گیا ہے، جس میں موجودہ صورتحال کے درمیان اس کے ذخائر کی سطح کے بارے میں سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
Responses