پاکستان کا 2035 تک 90 فیصد صاف توانائی کا ہدف
اب تک کی صورتحال
وفاقی وزیر توانائی عویس لغاری نے 2035 تک کل بجلی کی پیداوار میں صاف توانائی کا حصہ 90 فیصد تک بڑھانے کے پاکستان کے ہدف کا اعلان کیا، جو موجودہ 55 فیصد سے زیادہ ہے۔ انہوں نے اسے گھرانوں اور کاروباروں کی جانب سے آزادانہ بجلی کی تنصیبات سے چلنے والی "تاریخی تبدیلی" قرار دیا، جس سے دن کے وقت توانائی کی زیادتی ہوتی ہے۔ تاہم، اس نے قومی گرڈ کے لیے "لچک کا مسئلہ" پیدا کیا ہے، جو بجلی کی آمد کو منظم کرنے میں مشکلات کا شکار ہے، جس کے نتیجے میں دن کے وقت طلب میں کمی اور شام کو طلب میں استحکام ہوتا ہے، جسے "ڈک کرو" کہا جاتا ہے۔ لغاری نے زور دیا کہ پاکستان کو اب پیداوار کا مسئلہ نہیں بلکہ شام کی چوٹی کی طلب کو پورا کرنے کے لیے دن کے وسط کی اضافی شمسی توانائی کو منتقل کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔ انہوں نے بین الاقوامی عوامل سے توانائی کی سلامتی کو لاحق خطرات کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ آئی ایم ایف پاکستان کو مخصوص اوقات میں سستی بجلی فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔ توانائی ماہرین نے مبینہ طور پر ان کے دعووں پر تنقید کی ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
وفاقی وزیر توانائی عویس لغاری نے 2035 تک پاکستان کی بجلی کی پیداوار میں 90 فیصد صاف توانائی حاصل کرنے کے ہدف کا اعادہ کیا ہے، باوجود اس کے کہ گرڈ مینجمنٹ کے موجودہ چیلنجز ہیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان کو مخصوص اوقات میں سستی بجلی فراہم کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے۔ انہوں نے ملک کے ایندھن کے درآمدی بل کو کم کرنے کے حکومتی ہدف کا بھی اعادہ کیا۔
توانائی ماہرین نے مبینہ طور پر وفاقی وزیر برائے توانائی اویس لغاری کے پاکستان کے توانائی کے شعبے سے متعلق دعووں پر تنقید کی ہے۔
Responses