کراچی چہلم کا جلوس سخت سکیورٹی میں اختتام پذیر

0:000:00

ایک نظر میں

  • کراچی میں چہلم کے مرکزی جلوس کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات نافذ کیے گئے۔
  • جلوس نشتر پارک سے روانہ ہوا اور اپنے روایتی راستے سے گزرا۔
  • راستے کو محفوظ بنانے کے لیے 8,000 سے زائد پولیس اہلکار اور رینجرز تعینات کیے گئے۔

اب تک کی صورتحال

کراچی میں منگل 4 اگست کو شہدائے کربلا کے چہلم کے مرکزی جلوس کے لیے سخت سکیورٹی اقدامات نافذ کیے گئے۔ مرکزی جلوس نشتر پارک سے روانہ ہوا اور اپنے روایتی راستے، بشمول ایم اے جناح روڈ، سے گزرا، جس کا اختتام کھارادر میں حسینیہ ایرانی امام بارگاہ پر ہونا تھا۔ راستے کو محفوظ بنانے کے لیے 8,000 سے زائد پولیس اہلکار اور رینجرز کی ایک بڑی نفری تعینات کی گئی تھی، سڑکیں کنٹینرز سے بند کر دی گئی تھیں اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑ دیا گیا تھا۔ تمام شرکاء کو شامل ہونے سے پہلے مکمل سکیورٹی چیک سے گزرنا پڑا، اور متعدد چھوٹے جلوس مرکزی جلوس میں شامل ہوئے۔ ایک ایڈیشنل انسپکٹر جنرل نے کراچی میں چہلم کے جلوسوں کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔

تازہ ترین پیش رفت

کراچی میں شہدائے کربلا کے چہلم کا مرکزی جلوس اپنے روایتی راستے سے گزر کر کھارادر میں حسینیہ ایرانی امام بارگاہ پر سخت سکیورٹی اقدامات کے تحت اختتام پذیر ہوا۔

تازہ ترین اپڈیٹس

کراچی میں امام حسین کا مرکزی چہلم کا جلوس آج 4 اگست کو اپنے مقررہ راستوں پر رواں دواں ہے۔

پولیس کے مطابق، کراچی میں چہلم کے ماتمی جلوس سخت سیکیورٹی کے درمیان منگل کو جاری ہیں، جو دوپہر 1 بجے نشتر پارک سے روانہ ہوئے۔ شام 4:50 بجے تک، مرکزی جلوس کا اگلا حصہ عیدگاہ چوک پہنچ چکا تھا، جبکہ اس کا پچھلا حصہ برٹو روڈ پر تھا، جو حسینیہ ایرانی امام بارگاہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔ پولیس نے پہلے ہی گرو مندر سے ٹاور تک ایم اے جناح روڈ کی بندش کا اعلان کیا تھا اور مسافروں کے لیے متبادل راستے فراہم کیے تھے۔

ایک ایڈیشنل انسپکٹر جنرل نے کراچی میں چہلم کے جلوسوں کے لیے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی دورہ کیا۔

منگل کو شہدائے کربلا کی یاد میں نکالے جانے والے چہلم کے مرکزی جلوس کے لیے کراچی بھر میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔

مرکزی جلوس نمائش چورنگی کے قریب نشتر پارک سے برآمد ہونا ہے۔ یہ اپنے روایتی راستوں بشمول ایم اے جناح روڈ سے ہوتا ہوا شام میں کھارادر میں حسینیہ ایرانیان امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوگا۔

حکام کے مطابق، جلوس کے راستے کو محفوظ بنانے کے لیے 8,000 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کی مدد کے لیے رینجرز کا ایک بڑا دستہ بھی موجود ہے۔

شہر کے مختلف علاقوں بشمول ملیر، جوہر اور صدر سے متعدد چھوٹے جلوسوں کی مرکزی جلوس میں شامل ہونے کی توقع ہے۔ حکام نے جلوس کے راستے پر سڑکوں کو کنٹینرز لگا کر بند کر دیا ہے، اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر موڑ دیا گیا ہے۔ تمام شرکاء کو شامل ہونے کی اجازت دینے سے پہلے ان کی مکمل سیکیورٹی چیکنگ کی جا رہی ہے۔

کراچی میں حضرت امام حسین (ع) کے چہلم کے موقع پر مرکزی اربعین جلوس کورنگی اور ملیر سے بھی برآمد ہوئے ہیں، جہاں عزادار پیدل چل کر ان تقریبات میں شامل ہو رہے ہیں۔

نئی رپورٹس کے مطابق راولپنڈی میں عاشقان حسین امام بارگاہ سے چہلم کا جلوس برآمد ہو رہا ہے۔ ایک اور جلوس حویلی الف شاہ سے بھی برآمد ہو رہا ہے۔ حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) اور ان کے ساتھیوں کا چہلم عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے، اور مختلف امام بارگاہوں اور دیگر مقامات پر مجالس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

علیحدہ طور پر، لاہور ٹریفک پولیس نے شہر میں چہلم کے جلوس کے لیے ٹریفک پلان جاری کیا ہے۔

ایرانی عہدیدار عراقی، جنہوں نے آئندہ اربعین حج سے قبل عراق کے نجف میں امام علی کے مزار کا دورہ کیا تھا، کی شناخت ایرانی وزیر خارجہ کے طور پر ہوئی ہے۔ ان کا دورہ چہلم کے جلوس سے منسلک ہے۔

کراچی ٹریفک پولیس نے مرکزی چہلم جلوس کے لیے ایک خصوصی ٹریفک مینجمنٹ پلان کو حتمی شکل دے دی ہے اور ایک روٹ میپ جاری کیا ہے۔ حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے چہلم کے موقع پر یہ جلوس منگل، 4 اگست 2026 کو صبح 9:00 بجے نشتر پارک سے شروع ہو کر کھارادر میں امام بارگاہ حسینیہ ایرانیان پر اختتام پذیر ہوگا۔

سیکیورٹی انتظامات کے تحت، جلوس کے دوران ایم اے جناح روڈ گرومندر سے ٹاور تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔

خلل کو کم کرنے کے لیے، کئی متبادل راستوں کا اعلان کیا گیا ہے:

  • ناظم آباد سے آنے والی ٹریفک کو لسبیلہ چوک اور نشتر روڈ کے ذریعے گارڈن کی طرف موڑا جائے گا۔
  • لیاقت آباد سے آنے والی گاڑیاں تین ہٹی سے لسبیلہ چوک کی طرف موڑ دی جائیں گی اور پھر مارٹن روڈ کے ذریعے سینٹرل جیل کی طرف بڑھیں گی۔
  • حسن اسکوائر سے پیپلز چورنگی کی طرف جانے والے موٹر سواروں کو کشمیر روڈ، شاہراہ قائدین پر سوسائٹی لائٹ سگنل، جیل فلائی اوور، تین ہٹی، اور لسبیلہ چوک کے ذریعے نشتر روڈ کی طرف بھیجا جائے گا۔
  • شاہراہ فیصل سے نمائش کی طرف آنے والی گاڑیاں نورانی کباب، سوسائٹی لائٹ سگنل، اور کشمیر روڈ کے ذریعے موڑ دی جائیں گی۔
  • جمشید روڈ پر سینٹرل جیل گیٹ سے ایم اے جناح روڈ کے ذریعے گرومندر کی طرف جانے والی ٹریفک کو بہادر یار جنگ روڈ اور سولجر بازار کے ذریعے موڑا جائے گا۔
  • گارڈن زو سے ایم اے جناح روڈ کی طرف آنے والی گاڑیاں اینکل ساریا، گل پلازہ، کوسٹ گارڈ، اور ہولی فیملی ہسپتال کے ذریعے موڑ دی جائیں گی۔

بھاری اور تجارتی گاڑیوں کے لیے بھی خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ سپر ہائی وے سے ایم اے جناح روڈ کی طرف جانے والے ٹرکوں کو لیاقت آباد نمبر 10 سے ناظم آباد نمبر 2 چورنگی کی طرف موڑا جائے گا، اور پھر سائٹ حبیب بینک فلائی اوور، اسٹیٹ ایونیو روڈ، شیر شاہ، اور ماڑی پور کے ذریعے آگے بڑھیں گے۔ قومی شاہراہ سے شہر میں داخل ہونے والی بھاری اور تجارتی گاڑیوں کو شاہراہ فیصل یا راشد منہاس روڈ، اسٹیڈیم روڈ، سر شاہ سلیمان روڈ، حسن اسکوائر، لیاقت آباد نمبر 10، اور ناظم آباد نمبر کے ذریعے سفر کرنے کی اجازت ہوگی۔ ٹریفک پولیس نے جلوس کے راستے پر پارکنگ پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

پاکستان نیوز اس کہانی کو مزید تصدیق شدہ تفصیلات دستیاب ہونے پر اپ ڈیٹ کرے گا۔

منگل، 4 اگست 2026 کو کراچی میں مرکزی چہلم جلوس کے دوران شیعہ علماء کونسل کے رہنماؤں نے میڈیا سے خطاب کیا۔

کراچی میں 4 اگست کو ہونے والے مرکزی چہلم کے جلوس کے دوران ایم اے جناح روڈ بند رہے گی۔ ٹریفک پولیس نے ایک خصوصی پلان جاری کیا ہے، جس میں مختلف راستوں کے لیے ڈائیورژن کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ جلوس کے اختتام تک صبح 10 بجے سے بھاری ٹریفک کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی، اور جلوس کے راستے پر پارکنگ ممنوع ہوگی۔ مرکزی جلوس منگل 4 اگست کو صبح 9 بجے نشتر پارک سے شروع ہوگا۔

کراچی میں کل 4 اگست 2026 کو نشتر پارک سے شروع ہونے والے چہلم کے جلوس کے لیے حفاظتی انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

کراچی میں چہلم کا ایک جلوس کل 4 اگست 2026 کو نشتر پارک سے شروع ہونے والا ہے۔

عالمی ادارہ صحت (WHO) متحرک ہو گیا ہے کیونکہ اربعین حج کے لیے لاکھوں زائرین کربلا میں جمع ہو رہے ہیں۔ یہ ایک اہم مذہبی تقریب ہے جو امام حسین کی شہادت کے 40ویں دن کی یاد میں منائی جاتی ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>