راولپنڈی میں چہلم کے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ
ایک نظر میں
- چہلم اور عرس کے سیکیورٹی انتظامات 4 اگست کو مکمل ہو گئے۔
- پنجاب کے 18 اضلاع میں فوج اور رینجرز تعینات کی گئیں۔
- راولپنڈی کے آر پی او نے مرکزی چہلم جلوس کی سیکیورٹی کا جائزہ لیا۔
اب تک کی صورتحال
حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے چہلم اور حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری (رضی اللہ عنہ) کے سالانہ عرس کے سیکیورٹی انتظامات 4 اگست کو مکمل کر لیے گئے۔ پنجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ نے پولیس کی مدد کے لیے پاک فوج اور رینجرز کی تعیناتی کی درخواست کی تھی، جس کے تحت 43 کمپنیاں 18 اضلاع میں تعینات کی گئیں۔ عرس کے لیے لاہور میں مقامی چھٹی کا اعلان کیا گیا اور میٹرو بس سروس معطل رہی۔ لاکھوں عقیدت مندوں نے عرس میں شرکت کی، اور اسلام آباد میں اربعین کا جلوس بھی نکالا گیا۔
تازہ ترین پیش رفت
ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی ریجن، بابر سرفراز الپا نے کمشنر سلمان غنی کے ہمراہ راولپنڈی میں مرکزی چہلم جلوس کے سیکیورٹی انتظامات کا ذاتی طور پر جائزہ لیا اور راستوں کو سیل کرنے اور مکمل چیکنگ کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) راولپنڈی ریجن بابر سرفراز الپا نے کمشنر راولپنڈی ڈویژن سلمان غنی کے ہمراہ راولپنڈی میں جاری چہلم شہدائے کربلا کے مرکزی جلوس کا دورہ کیا۔ انہوں نے جلوس کے مکمل روٹ اور سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر سی پی او راولپنڈی حسن مشتاق سکھیرا نے آر پی او الپا کو سیکیورٹی پلان کے بارے میں بریفنگ دی، جس میں داخلی و خارجی راستوں، واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز، سیف سٹی کیمروں، سی سی ٹی وی مانیٹرنگ، ڈرون نگرانی، ایلیٹ فورس، لیڈیز پولیس اور ٹریفک مینجمنٹ جیسے اقدامات شامل تھے۔ آر پی او الپا نے ہدایات جاری کیں کہ جلوس کے راستے میں آنے والی تمام گلیوں اور ملحقہ راستوں کو مکمل طور پر سیل رکھا جائے اور شرکا کو صرف مقررہ داخلی راستوں سے مکمل چیکنگ کے بعد داخلے کی اجازت دی جائے۔ انہوں نے سیکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کو چوکس رہنے اور بلند عمارتوں و حساس مقامات کی نگرانی کی بھی ہدایت کی، ساتھ ہی ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، محکمہ صحت، سول ڈیفنس اور ٹریفک پولیس کے ساتھ موثر رابطہ برقرار رکھنے پر زور دیا۔
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری (رح) کا 983 واں سالانہ عرس آج 4 اگست کو لاہور میں داتا دربار میں روحانی اختتامی دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔
لاہور میں حضرت داتا گنج بخش کے عرس اور حضرت امام حسین (ع) کے چہلم کے موقع پر سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کے پیش نظر میٹرو بس سروس مکمل طور پر معطل کر دی گئی۔
آج 4 اگست کو لاہور میں حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری (رح) کے 983ویں سالانہ عرس کا آخری دن ہے۔ ہزاروں عقیدت مند خصوصی دعاؤں اور روحانی تقریبات کے لیے داتا دربار میں جمع ہوئے ہیں۔
داتا دربار عرس پر لاکھوں لیٹر دودھ تقسیم کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، پیر اجمل رضا قادری نے اس تقریب میں خطاب کیا۔
حضرت داتا گنج بخش (رحمۃ اللہ علیہ) کا تین روزہ 983 واں عرس آج 4 اگست کو اختتام پذیر ہو رہا ہے۔ پاکستان بھر سے لاکھوں عقیدت مند خصوصی دعاؤں، قرآن خوانی، نعت خوانی اور روحانی محافل کے لیے لاہور میں داتا دربار پر جمع ہوئے ہیں۔
پنجاب حکومت نے 4 اگست کو لاہور میں داتا گنج بخش کے سالانہ عرس کے موقع پر مقامی تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق لاہور میں ضلعی دفاتر اور ڈپٹی کمشنر (ڈی سی) کے ماتحت تمام سرکاری ادارے 4 اگست کو بند رہیں گے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ پنجاب سول سیکرٹریٹ اور دیگر صوبائی سرکاری اداروں پر اس مقامی تعطیل کا اطلاق نہیں ہوگا اور وہ معمول کے مطابق کھلے رہیں گے۔
ہزاروں شرکاء نے اسلام آباد میں اربعین کے عظیم جلوس میں شرکت کی ہے، جو حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے چہلم کی یاد میں نکالا گیا ہے۔
حضرت داتا گنج بخش علی ہجویری (رح) کا سالانہ عرس اس وقت اپنے دوسرے روز میں ہے۔
تازہ ترین فیکٹ چیکس
جلوس کے راستے میں آنیوالی تمام گلیوں ‘ راستوں کو مکمل سیل رکھا جائے ‘ آر پی او
راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے)ریجنل پولیس آفیسر راولپنڈی ریجن بابر سرفراز الپا نے کمشنر راولپنڈی ڈویژن سلمان غنی کے ہمراہ راولپنڈی میں جاری چہلم شہدائے کربلا کے مرکزی جلوس کا دورہ کیا اور جلوس کے مکمل روٹ اور سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
عرس داتا دربار اور چہلم امام حسین کے باعث لاہور میں میٹرو بس سروس مکمل طور پر بند
حضرت داتا گنج بخش کے عرس اور چہلم حضرت امام حسین کے موقع پر سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کے پیش نظرمیٹرو بس سروس مکمل طور پر معطل رکھی گئی۔
Responses