نئے انتظامی یونٹس پر بحث جاری

0:000:00

ایک نظر میں

  • نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے حوالے سے ملک گیر بحث جاری ہے۔
  • ایم کیو ایم، شاہد خاقان عباسی، اور ڈاکٹر فاروق ستار اس تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔
  • سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اس کی مخالفت کرتے ہیں، جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما شوکت یوسفزئی اس کی حمایت کرتے ہیں۔

اب تک کی صورتحال

پاکستان میں نئے انتظامی یونٹس یا صوبوں کے ممکنہ قیام کے حوالے سے ایک اہم بحث جاری ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے باضابطہ طور پر ان کے قیام کا مطالبہ کیا ہے، اس موقف کی سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور ایم کیو ایم-پی کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار اور خالد مقبول صدیقی نے عوامی سطح پر حمایت کی ہے، جو آبادی میں بے پناہ اضافے کی وجہ سے مناسب حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے ان کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ قمر زمان کائرہ اور وسیم اختر نے کہا ہے کہ آئین نئے صوبوں کے لیے کافی دفعات فراہم کرتا ہے۔ تجزیہ کار فخر درانی کا مشورہ ہے کہ چھوٹے انتظامی ڈویژن حکمرانی کو بہتر بنا سکتے ہیں لیکن موجودہ بیوروکریٹک ڈھانچے سے ممکنہ رکاوٹوں کو نوٹ کیا۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے اس تجویز کی واضح طور پر مخالفت کی ہے، جبکہ پی ٹی آئی کے رہنما شوکت یوسفزئی نے اسے ایک ضروری انتظامی اصلاحات کے طور پر عوامی سطح پر حمایت کی ہے۔ مصطفیٰ کمال نے نئے صوبوں کے قیام کو مجبوری قرار دیا ہے، جبکہ نثار کھوڑو اسے ملک کے خلاف ایک سازش سمجھتے ہیں۔ فواد چوہدری نے بھی اس بحث میں حصہ لیا ہے، صوبائی تقسیم کے حل کی تجویز پیش کرتے ہوئے 18ویں ترمیم کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔ بحث میں شدت آتی جا رہی ہے، جس میں سعید غنی سمیت مختلف رہنما اس معاملے پر اپنی رائے دے رہے ہیں کہ نہ تو پی پی پی اور نہ ہی مسلم لیگ ن کو نئے صوبے بنانے کا اختیار ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

پاکستان بھر میں نئے انتظامی یونٹس کے قیام کے گرد بحث جاری ہے، جس میں مختلف سیاسی شخصیات اپنے موقف کا اعادہ کر رہی ہیں۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Responses

>