ڈی جی آئی ایس پی آر: نئے صوبوں کا فیصلہ عوام اور سیاسی نمائندوں کا اختیار ہے
ایک نظر میں
- ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ نئے صوبے بنانے میں فوج کا کوئی کردار نہیں۔
- انتظامی یونٹس کا فیصلہ عوام اور سیاسی نمائندوں کے اختیار میں ہے۔
- اچھی حکمرانی استحکام اور سلامتی کے لیے اہم ہے۔
اب تک کی صورتحال
ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے مسلسل یہ کہا ہے کہ فوج نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل کا تعین نہیں کرتی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایسے فیصلے پاکستانی عوام اور ان کے سیاسی نمائندوں کا اختیار ہیں، جنہیں آئینی، قانونی اور سیاسی طریقوں سے نافذ کیا جانا چاہیے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے قومی استحکام کے لیے اچھی حکمرانی کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ 1972 سے ملک کی آبادی میں اضافے کے پیش نظر موجودہ چار صوبوں کے ڈھانچے کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وزیر داخلہ محسن نقوی کے نظام کی ناکامی سے متعلق ریمارکس ذاتی رائے کی نمائندگی کرتے ہیں، نہ کہ فوجی موقف کی۔
تازہ ترین پیش رفت
ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے حال ہی میں واضح کیا ہے کہ نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کی تشکیل کا فیصلہ صرف پاکستان کے عوام اور ان کے سیاسی نمائندوں کا اختیار ہے، اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ فوج کا ایسے معاملات میں کوئی کردار نہیں۔
Responses