پاکستان نے حوثیوں کو جہاز رانی کے خطرات پر سخت وارننگ جاری کر دی
ایک نظر میں
- پاکستان نے تجارتی جہاز رانی کے خلاف حوثی خطرات کی مذمت کی۔
- سعودی اور بحرینی پانیوں کو نشانہ بنانے کے خلاف وارننگ جاری کی گئی۔
- پاکستانی پرچم والے جہازوں کے خلاف جارحیت قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھی جائے گی۔
اب تک کی صورتحال
پاکستان نے سعودی عرب اور بحرین کے پانیوں میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حوثی ملیشیا کے خطرات کی باضابطہ طور پر مذمت کی ہے، اور خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات علاقائی سلامتی اور سمندری نقل و حرکت کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان نے یمن میں حوثیوں کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب سے وابستہ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا ایک سنگین تشویش کا معاملہ ہے۔ ملک نے مزید خبردار کیا کہ پاکستانی پرچم والے جہازوں کے خلاف کوئی بھی جارحانہ کارروائی پاکستان کی قومی سلامتی اور سمندری مفادات کے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھی جائے گی، اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت جوابی کارروائی کے اپنے حق کی تصدیق کی۔
تازہ ترین پیش رفت
پاکستان نے سعودی عرب اور بحرین کے پانیوں میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حوثی ملیشیا کے خطرات کی مذمت کی ہے، اور سخت وارننگ جاری کی ہے کہ ایسے اقدامات علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
پاکستان نے سعودی عرب اور بحرین کے پانیوں میں تجارتی جہاز رانی کے خلاف حوثی ملیشیا کے خطرات کی باضابطہ مذمت کی ہے، خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات علاقائی سلامتی اور سمندری نقل و حرکت کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں۔ پاکستان نے یمن میں حوثیوں کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب سے منسلک تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا تشویش کا باعث ہے۔
ملک نے مزید خبردار کیا کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں کے خلاف کوئی بھی جارحانہ کارروائی پاکستان کی قومی سلامتی اور سمندری مفادات کے لیے سنگین خطرہ سمجھی جائے گی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت ایسے کسی واقعے کی صورت میں جوابی کارروائی کے اپنے حق کی تصدیق کی۔ ان خطرات کے پس منظر میں یمن میں حوثیوں کا اثر و رسوخ، ایران سے ان کے مبینہ تعلقات، اور یمنی ہوائی اڈوں پر سابقہ حملے شامل ہیں۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے اہم آبی گزرگاہیں بھی وسیع تر علاقائی سلامتی کے خدشات میں شامل ہیں۔
بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے درمیان، امریکہ-سعودی جوہری معاہدے کے حوالے سے اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔
Responses