ایرانی اسپیکر کا انتباہ: اگر ہم تیل نہیں بیچ سکتے تو کوئی نہیں بیچے گا
ایک نظر میں
- امریکہ-ایران کشیدگی برقرار ہے، انفراسٹرکچر کے حوالے سے دھمکیاں اور جوابی دھمکیاں جاری ہیں۔
- ایک ایرانی اسپیکر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران اپنا تیل فروخت نہیں کر سکتا تو کوئی دوسرا بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔
- بڑھتے ہوئے تنازع کے باوجود، ممکنہ امن مذاکرات اور بات چیت کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
اب تک کی صورتحال
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے، امریکہ نے آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی نافذ کر دی ہے اور صدر ٹرمپ نے ایرانی انفراسٹرکچر پر حملے کی دھمکی دی ہے۔ ایران نے "آنکھ کے بدلے آنکھ" کے جواب کا عہد کیا ہے اور علاقائی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی دھمکی دی ہے۔ ایک ایرانی اسپیکر نے اب یہ انتباہ جاری کیا ہے: "اگر ہم تیل نہیں بیچ سکتے تو کوئی بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔" امریکہ کے حملوں اور IRGC کے حملوں سمیت جاری تنازع کے باوجود، ممکنہ امن مذاکرات کا ذکر کیا جا رہا ہے، امریکہ نے بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے اور پاکستان کے وزیر داخلہ نے امن کے لیے امید کا اظہار کیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
ایک ایرانی اسپیکر نے جاری علاقائی کشیدگی کے درمیان براہ راست انتباہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ "اگر ہم تیل نہیں بیچ سکتے تو کوئی بھی تیل فروخت نہیں کر سکے گا۔"
ذرائع اور اپڈیٹس
Iran warns of 'eye for an eye' response if infrastructure hit
TEHRAN: Foreign Minister Abbas Araghchi said Wednesday that Iran would respond in kind to any attack on its infrastructure, after Washington threatened to bomb a bridge or power plant for every ship targeted in the Strait of Hormuz. Also read: US wil
ٹرمپ کی ایرانی پُلوں پر حملے کی دھمکی، ایران کا خطے کے ملکوں میں پُلوں کو نشانہ بنانے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران میں پاور پلانٹس اور پُلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر ایران نے خطے کے ممالک میں پُلوں اور بنیادی انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دے دی۔
Responses