ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان میں پاک فوج کے بڑے آپریشن کی تفصیلات ظاہر کیں

زیرِ تکمیل خبر

ایک نظر میں

  • ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) ایک اہم پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔
  • اس بریفنگ کے دوران، ڈی جی آئی ایس پی آر سے توقع ہے کہ وہ بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بات کریں گے اور اہم اعلانات کریں گے۔
  • ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے بلوچستان میں پاک فوج کے ایک بڑے آپریشن کی تفصیلات ظاہر کی ہیں۔
اب تک کی صورتحال: ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) ایک اہم پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ اس بریفنگ کے دوران، ڈی جی آئی ایس پی آر سے توقع ہے کہ وہ بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بات کریں گے اور اہم اعلانات کریں گے۔

مرکزی خبر

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) ایک اہم پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ اس بریفنگ کے دوران، ڈی جی آئی ایس پی آر سے توقع ہے کہ وہ بلوچستان میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بات کریں گے اور اہم اعلانات کریں گے۔


تازہ ترین اپڈیٹس

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے بلوچستان میں پاک فوج کے ایک بڑے آپریشن کی تفصیلات ظاہر کی ہیں۔ یہ انکشاف ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا جہاں ڈی جی آئی ایس پی آر نے صوبے کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی بات کی۔


ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے بلوچستان میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پیش نظر دہشت گردوں کو کھلا چیلنج اور واضح پیغام دیا ہے۔ یہ بیان پریس کانفرنس میں ان کے اس انکشاف کے بعد سامنے آیا ہے کہ صوبے میں کارروائیوں کے دوران 54 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

پاکستان نیوز اس خبر پر مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ فراہم کرے گا۔


ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (ڈی جی آئی ایس پی آر) نے انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان آپریشنز میں 54 دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے 27 پولیس افسران اور 11 فوجیوں کو بھی جذباتی خراج تحسین پیش کیا۔

علیحدہ طور پر، اطلاعات کے مطابق بلوچستان آپریشن میں 14 بی ایل اے دہشت گرد ہلاک ہوئے۔ ایک اور رپورٹ میں بلوچستان آپریشن میں 18 فوجیوں کی شہادت کا ذکر کیا گیا۔


ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 8 جولائی 2026 کو کہا کہ کوئی بھی ادارہ ریاست پاکستان کو دھمکا نہیں سکتا۔ انہوں نے انسداد دہشت گردی کے لیے قوم کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیاں ان کے مکمل خاتمے تک جاری رہیں گی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بلوچستان بھر میں انسداد دہشت گردی کی تیز کارروائیوں کی تفصیلات بتائیں، جہاں گزشتہ چار دنوں میں تین بڑے دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں درجنوں سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ ان کارروائیوں میں 54 دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے۔ خاص طور پر، تین بڑے واقعات کے دوران 26 دہشت گردوں کو ختم کیا گیا، جبکہ بدھ کو خاران اور دالبندین میں تازہ انٹیلی جنس پر مبنی کارروائیوں میں مزید 14 دہشت گرد مارے گئے، جس سے کل تعداد 54 ہو گئی۔

دہشت گردوں نے معصوم شہریوں اور سیکیورٹی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں منگی ڈیم کوئٹہ پمپنگ اسٹیشن کا علاقہ اور زیارت میں پولیس چوکیاں شامل ہیں۔ منگی کے ابتدائی حملے میں نو پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ بدھ کے حملے میں مزید 18 شہید ہوئے، جس سے منگی میں پولیس شہداء کی کل تعداد 27 ہو گئی۔ اطلاعات کے مطابق بلوچستان آپریشن کے دوران 4 شہری بھی شہید ہوئے۔


ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 8 جولائی 2026 کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عزم کیا کہ پاک فوج دہشت گردوں کا ہر جگہ تعاقب کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار دنوں کے دوران بلوچستان میں تین بڑے انسداد دہشت گردی آپریشنز میں سکیورٹی فورسز نے 54 دہشت گردوں کو ہلاک کیا، جبکہ علیحدہ حملوں میں 42 شہری اور سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے ان حملوں کے جواب میں فوج کے اقدامات کی وضاحت کی، جس میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر آپریشنز اور شدید جھڑپیں شامل تھیں۔ انہوں نے زور دیا کہ حالیہ واقعات دہشت گرد گروہوں کی جانب سے دشمن قوتوں کی حمایت سے ایک مربوط مہم کی عکاسی کرتے ہیں، اور واضح طور پر کہا کہ بھارت ان حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے جنہیں ایسی قوتوں کی حمایت حاصل ہے جو پاکستان کے وقار، خوشحالی اور استحکام کو برداشت نہیں کر سکتیں۔

انہوں نے 4 جولائی سے ہونے والے تین بڑے واقعات کی تفصیلات بتائیں۔ پہلا واقعہ 4 اور 5 جولائی کی درمیانی شب ہنہ اڑک میں پیش آیا، جہاں حکومت کے مطابق فتنہ الخوارج (کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس سے منسلک گروہ) سے تعلق رکھنے والے دہشت گردوں نے مقامی رہائشیوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں چار شہری ہلاک اور چھ زخمی ہوئے۔ دوسرا واقعہ زیارت ضلع میں منگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن نمبر 3 پر پولیس چوکی پر ایک مربوط حملہ تھا، جہاں نو پولیس اہلکار چوکی کا دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئے اور 15 دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔ حملہ آوروں نے زندہ بچ جانے والے پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا، اور سکیورٹی فورسز نے یرغمالیوں کو نقصان سے بچانے کے لیے فضائی اثاثوں کے استعمال سے گریز کیا۔ تازہ ترین فوجی آپریشن انٹیلی جنس رپورٹس کے بعد شروع کیا گیا جس میں N-25 شاہراہ کے ساتھ جھاؤ کراس اور کرارو کے درمیان بھاری ہتھیاروں سے لیس عسکریت پسندوں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی، جنہوں نے غیر قانونی چوکیاں قائم کی تھیں، ٹریفک کو روکا تھا، مسافروں کو ہراساں کیا تھا اور رقم بٹوری تھی۔

فوج کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے، لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے عسکریت پسند گروہوں کو براہ راست خبردار کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج ان کا بے رحمی سے تعاقب جاری رکھے گی اور ملک کے خلاف حملوں کے ذمہ داروں کو احتساب سے بچنے نہیں دے گی۔


ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے 8 جولائی 2026 کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان میں سیکیورٹی صورتحال کی تفصیلات فراہم کیں۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چار دنوں میں دہشت گردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے۔ پہلا واقعہ 4/5 جولائی کو ہنہ اڑک میں پیش آیا، جہاں “فتنہ الخوارج” کے دہشت گردوں نے مقامی آبادی پر حملہ کیا۔ رہائشیوں نے بھرپور مزاحمت کی، جس سے دہشت گرد فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔ اس واقعے میں چار شہری شہید اور چھ زخمی ہوئے۔

دوسرا واقعہ زیارت ضلع میں منگی ڈیم کے پمپنگ اسٹیشن نمبر 3 کی حفاظت پر مامور ایک پولیس چیک پوسٹ پر FAK دہشت گردوں کا “کئی سمتوں سے حملہ” تھا۔ اس حملے میں دو ایس ایچ اوز سمیت نو پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ بعد میں ہونے والے کلیئرنس آپریشن میں 15 دہشت گرد مارے گئے۔ فوج اور فرنٹیئر کور کی کمک بھیجی گئی، لیکن ان کے پہنچنے سے پہلے دہشت گرد باقی پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا چکے تھے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ لڑائی میں 15 “خارجی” مارے گئے۔

علیحدہ طور پر، سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ بلوچستان میں ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن (IBO) کے دوران “فتنہ الہند” کے 19 عسکریت پسند مارے گئے۔ اس آپریشن میں 11 پاکستانی فوجی بھی شہید ہوئے۔ یہ آپریشن اس انٹیلی جنس کے بعد شروع کیا گیا تھا کہ جھاؤ کراس اور کرارو کے درمیان N-25 شاہراہ پر مسلح عسکریت پسند موجود ہیں جو مسافروں اور رہائشیوں سے بھتہ وصول کر رہے ہیں۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے زور دیا کہ کوئی بھی پاکستان کو ڈرا نہیں سکتا۔ پاکستان نیوز مزید مصدقہ تفصیلات سامنے آنے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔


ذرائع اور اپڈیٹس

Latest Activity

Related Articles

Responses

>