امریکہ-ایران کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں جہاز رانی تقریباً ٹھپ

Pakistan News Desk20 hours پہلے

ایک نظر میں

  • ایران نے آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک علاقے کے حوالے سے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے۔
  • دستیاب رپورٹس میں اس پیش رفت کے سلسلے میں "ایرانی خفیہ دستاویزات کے انکشاف" کا ذکر کیا گیا ہے۔
  • امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
اب تک کی صورتحال: ایران نے آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک علاقے کے حوالے سے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے۔ دستیاب رپورٹس میں اس پیش رفت کے سلسلے میں "ایرانی خفیہ دستاویزات کے انکشاف" کا ذکر کیا گیا ہے۔

مرکزی خبر

ایران نے آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک علاقے کے حوالے سے ایک بڑا دعویٰ کیا ہے۔ دستیاب رپورٹس میں اس پیش رفت کے سلسلے میں “ایرانی خفیہ دستاویزات کے انکشاف” کا ذکر کیا گیا ہے۔


تازہ ترین اپڈیٹس

امریکی سینٹرل کمانڈ نے آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔


ایران کی پاسداران انقلاب بحریہ نے جمعرات کو کہا کہ ایران پر امریکی حملے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کو دوبارہ منظم کرنے میں مداخلت اس اہم آبی گزرگاہ کو بتدریج دوبارہ کھولنے میں خلل ڈال رہی ہے اور اس سے فائدہ اٹھانے والے ممالک کے مفادات کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ ایران کی نگرانی میں ٹرانزٹ کی صلاحیت گزشتہ دو ہفتوں میں جنگ سے پہلے کی سطح کے تقریباً 50 فیصد تک بحال ہو گئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹرانزٹ کی صلاحیت صرف ان جہازوں کے لیے بڑھائی جا رہی ہے جنہیں ایران کی طرف سے مقرر کردہ راستوں کو استعمال کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ کی مزید کسی بھی مداخلت کا “کرارا جواب” دیا جائے گا۔


9 جولائی 2026 کو آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت امریکی فضائی حملوں کی تجدید اور تہران کی خلیج میں جوابی کارروائی کے بعد تقریباً بند ہو گئی۔ ابتدائی گھنٹوں میں صرف دو ٹینکر، برگ 1 اور ویل سیل، آبنائے سے گزرے۔ شپنگ انڈسٹری کے ذرائع نے بتایا کہ جہاز تیزی سے اپنے پبلک AIS ٹریکنگ ٹرانسپونڈرز بند کر رہے ہیں۔ اس تازہ کشیدگی نے امریکہ اور ایران کے درمیان تین ہفتے پرانی جنگ بندی کو متاثر کیا ہے۔ ایرانی مسلح افواج نے ایران کے جنوبی ساحلی اور مشرقی صوبوں پر امریکی حملوں کے جواب میں خلیجی ہمسایہ ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کیے۔ ایران کی پاسداران انقلاب بحریہ نے خبردار کیا کہ امریکہ کی مزید کسی بھی مداخلت کا “کرارا جواب” دیا جائے گا۔ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے سے قبل آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ سنبھالتا تھا۔


جے ڈی وینس نے آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 9 جولائی 2026 کو مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان اس اہم آبی گزرگاہ کے بارے میں ایک اعلان کیا ہے۔


امریکی نائب صدر نے ایران کو دھمکیاں جاری کی ہیں، جبکہ جے ڈی وینس نے بھی ایک سخت انتباہ دیا ہے۔ یہ بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ ایران کے لیے امریکہ کا پیغام مزید سخت ہو رہا ہے۔


آبنائے ہرمز کے گرد بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔ 9 جولائی 2026 کو، جے ڈی وینس نے آبنائے ہرمز کے ممکنہ بند ہونے کے حوالے سے انتباہ جاری کیا۔

پاکستان نیوز اس خبر پر مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ فراہم کرے گا۔


9 جولائی 2026 کو امریکہ نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے فوجی ردعمل کی دھمکی دی۔ امریکہ نے ایران کو آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے بارے میں خبردار کیا۔

پاکستان نیوز اس خبر پر مزید تصدیق شدہ تفصیلات سامنے آنے پر اپ ڈیٹ فراہم کرے گا۔


ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی نئے حملے کے بعد آبنائے ہرمز کو بند کر دے گا۔ تجزیہ کار رضا رومی نے کہا ہے کہ ایران نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ آبنائے اس کی رضامندی کے بغیر نہیں کھلے گی۔


ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے اسٹریٹجک کنٹرول سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ یہ بیان آبنائے کے حوالے سے ایران کے پہلے کے بڑے دعوے کی نوعیت کو واضح کرتا ہے۔


ذرائع اور اپڈیٹس

Latest Activity

Related Articles

غیر جانبدار سرخی

ایک نظر میں امریکی مرکزی کمانڈ نے منگل کو اعلان کیا کہ امریکی فوج نے ایران کے خلاف حملوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔…

Responses

>