ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی نماز جنازہ، تہران میں بڑا عوامی اجتماع

ایک نظر میں

  • تہران میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کے دوران ان کے بیٹے شریک ہوئے۔
  • تاہم، دستیاب اطلاعات کے مطابق ان کے بیٹے مجتبیٰ اس موقع پر غیر حاضر تھے۔
  • ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کے لیے منگل کو تہران میں ایک بہت بڑا عوامی اجتماع ہوا۔ایرانی دارالحکومت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس تاریخی جلوس جنازہ میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اب تک کی صورتحال: تہران میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کے دوران ان کے بیٹے شریک ہوئے۔ تاہم، دستیاب اطلاعات کے مطابق ان کے بیٹے مجتبیٰ اس موقع پر غیر حاضر تھے۔

مرکزی خبر

تہران میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کے دوران ان کے بیٹے شریک ہوئے۔ تاہم، دستیاب اطلاعات کے مطابق ان کے بیٹے مجتبیٰ اس موقع پر غیر حاضر تھے۔


تازہ ترین اپڈیٹس

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کے لیے منگل کو تہران میں ایک بہت بڑا عوامی اجتماع ہوا۔

ایرانی دارالحکومت سے موصولہ اطلاعات کے مطابق اس تاریخی جلوس جنازہ میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ کچھ غیر مصدقہ دعوؤں میں شرکاء کی تعداد لاکھوں میں بتائی گئی۔


تہران میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے دوران، سوگواروں کو مبینہ طور پر الوداعی پیغامات لکھتے ہوئے دیکھا گیا۔


اتوار کو تہران کی سڑکوں پر لاکھوں سوگواروں نے ایران کے رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای کو الوداع کہنے کے لیے شرکت کی۔

ایک ٹرک میں خامنہ ای کے تابوت کے ساتھ ان کی بیٹی، پوتی، داماد اور بہو کے تابوت بھی تھے، جو سوگواروں کے ہجوم میں سے گزر رہا تھا۔ جنازے کا جلوس دارالحکومت میں ایک مخصوص راستے سے ہوتا ہوا آزادی اسکوائر پر اختتام پذیر ہوا۔

جنازے کے شیڈول کے مطابق، جسد خاکی کو ایران کے شہر مشہد میں سپرد خاک کرنے سے قبل عراق کے شہروں کربلا اور نجف لے جایا جائے گا۔ ایرانی میڈیا نے اس تقریب کو ملک کی جدید تاریخ کا سب سے بڑا عوامی اجتماع قرار دیا ہے۔


6 جولائی کی رپورٹس کے مطابق، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تاریخ تدفین کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔ دریں اثنا، تہران سے آنے والی اطلاعات میں ‘تاریخی ہجوم’ کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ کچھ ذرائع کا کہنا ہے کہ دارالحکومت میں لاکھوں افراد نے جنازے کے جلوسوں میں شرکت کی ہے۔


ذرائع اور اپڈیٹس

Latest Activity

Related Articles

Responses

>