جون کے آخر میں یورپ کی دو تہائی سے زائد آبادی 35 ڈگری سے زیادہ گرمی کی لپیٹ میں رہی
ایک نظر میں
- یورپ بھر میں شدید ہیٹ ویو کے نتیجے میں مبینہ طور پر ہزاروں اموات ہوئی ہیں، جس پر سائنسدانوں نے ماحولیاتی بحران کے مزید سنگین ہونے سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔شدید درجہ حرارت کے جواب میں، فرانس سے آنے والی …
- فرانس میں جاری ہیٹ ویو کے باعث مبینہ طور پر عوام کے درمیان پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز کے استعمال اور دستیابی پر تنازعات پیدا ہو گئے ہیں۔
- ذرائع: GEO رپورٹس کے مطابق، برطانیہ ایک اور ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث حکام نے ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
مرکزی خبر
یورپ بھر میں شدید ہیٹ ویو کے نتیجے میں مبینہ طور پر ہزاروں اموات ہوئی ہیں، جس پر سائنسدانوں نے ماحولیاتی بحران کے مزید سنگین ہونے سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے۔
شدید درجہ حرارت کے جواب میں، فرانس سے آنے والی اطلاعات کے مطابق بہت سے شہری کم قیمت ایئر کنڈیشننگ یونٹس خریدنے کے لیے دکانوں کا رخ کر رہے ہیں۔
تازہ ترین اپڈیٹس
فرانس میں جاری ہیٹ ویو کے باعث مبینہ طور پر عوام کے درمیان پنکھوں اور ایئر کنڈیشنرز کے استعمال اور دستیابی پر تنازعات پیدا ہو گئے ہیں۔
ذرائع: GEO
رپورٹس کے مطابق، برطانیہ ایک اور ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث حکام نے ملک بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
ذرائع: GEO
ایک تجزیے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ یورپ کی دو تہائی سے زیادہ آبادی نے 15 جون سے 30 جون تک جاری رہنے والی شدید گرمی کی لہر کے دوران 35 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ درجہ حرارت کا سامنا کیا۔ اعداد و شمار کے مطابق، حالیہ گرمی کی لہر سے تقریباً 410 ملین افراد پر مشتمل علاقے متاثر ہوئے۔
تقابلی طور پر، 1 سے 17 اگست 2003 کے درمیان آنے والی ریکارڈ ساز گرمی کی لہر نے اندازاً 320 ملین افراد کو متاثر کیا تھا۔ یہ حسابات یورپی خشک سالی آبزرویٹری کے روزانہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت کے ڈیٹا اور جوائنٹ ریسرچ سینٹر کے آبادی کے اعداد و شمار پر مبنی تھے۔
ذرائع: Business Recorder
ایک حالیہ اپڈیٹ میں، فرانس سے موصولہ اطلاعات کے مطابق شدید گرمی کی لہر کے باعث صرف ایک ہفتے کے اندر ہزاروں اموات ہوئی ہیں۔
ذرائع: BOL News
اطلاعات کے مطابق یورپ بھر میں جاری شدید گرمی کی لہر سے ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
ذرائع: ذریعہ 1
ذرائع اور اپڈیٹس
Latest Activity

Responses