کراچی بار کی مولانا فضل الرحمٰن کے شہداء سے متعلق بیان کی شدید مذمت

ایک نظر میں

  • مولانا فضل الرحمان کے بیان پر مختلف سیاسی رہنماؤں اور تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔
  • 15 جولائی 2026 کو کراچی بار ایسوسی ایشن نے اس بیان کی مذمت کی۔اس کے علاوہ، پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے مولانا فضل الرحمان سے ان کے ریمارکس پر معافی کا مطالبہ کیا ہے۔
  • کراچی بار ایسوسی ایشن نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے سیکیورٹی فورسز کے شہداء سے متعلق بیان کی شدید مذمت کی ہے۔
اب تک کی صورتحال: مولانا فضل الرحمان کے بیان پر مختلف سیاسی رہنماؤں اور تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔ 15 جولائی 2026 کو کراچی بار ایسوسی ایشن نے اس بیان کی مذمت کی۔اس کے علاوہ، پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے مولانا فضل الرحمان سے ان کے ریمارکس پر معافی کا مطالبہ کیا ہے۔

مرکزی خبر

مولانا فضل الرحمان کے بیان پر مختلف سیاسی رہنماؤں اور تنظیموں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔ 15 جولائی 2026 کو کراچی بار ایسوسی ایشن نے اس بیان کی مذمت کی۔

اس کے علاوہ، پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے مولانا فضل الرحمان سے ان کے ریمارکس پر معافی کا مطالبہ کیا ہے۔


تازہ ترین اپڈیٹس

کراچی بار ایسوسی ایشن نے جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے سیکیورٹی فورسز کے شہداء سے متعلق بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر نواز وڈائچ نے کہا ہے کہ ایسے بیانات شہداء کی قربانیوں اور ان کے لواحقین کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں۔

کراچی بار ایسوسی ایشن نے مولانا فضل الرحمٰن سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سیکیورٹی فورسز کے شہداء سے متعلق اپنے بیان کو واپس لیں اور ان کی عظیم قربانیوں کا اعتراف کریں۔ پاکستان نیوز مزید تصدیق شدہ تفصیلات دستیاب ہونے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔


مولانا فضل الرحمان کے ایک بیان نے اہم سیاسی ردعمل کو جنم دیا ہے۔ اس کے جواب میں، حکومتی اراکین نے مولانا سے معافی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے برعکس، پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمان کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔

جے یو آئی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ مولانا فضل الرحمان کے شہداء سے متعلق بیان سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔ یہ سیاسی پیش رفت ایران-امریکہ مذاکرات یا تنازعہ کے ممکنہ خدشات کے درمیان ہو رہی ہے، اور اس تناظر میں پی ٹی آئی کے احتجاج کو بھی نوٹ کیا گیا ہے۔


ذرائع اور اپڈیٹس

Latest Activity

Responses

>