آبنائے ہرمز کا کھولا جانا اسلام آباد مفاہمت کی 7 شرائط سے منسلک: ایران
ایک نظر میں
- ایران کا کہنا ہے کہ جب تک امریکہ 7 شرائط پوری نہیں کرتا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔
- یہ شرائط 'اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت' کا حصہ ہیں۔
- ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا کہنا ہے کہ تہران طویل مذاکرات کو مسترد کرتا ہے۔
اب تک کی صورتحال
ایران نے عوامی سطح پر اسٹریٹجک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو امریکہ کی جانب سے سات مخصوص شرائط کی تکمیل سے منسلک کر دیا ہے۔ یہ شرائط مبینہ طور پر اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کے نام سے مشہور ایک معاہدے کا حصہ ہیں۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جو چیف مذاکرات کار تھے، نے کہا ہے کہ تہران کو ایک ثالث کے ذریعے امریکی جواب موصول ہوا ہے لیکن وہ اپنے مؤقف پر قائم ہے اور طویل مذاکرات یا یکطرفہ مطالبات کو مسترد کرتا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت میں بیان کردہ سات شرائط پوری نہیں کر دیتا۔ انہوں نے کہا کہ تہران کو ایک ثالث کے ذریعے امریکی جواب موصول ہوا ہے لیکن وہ طویل مذاکرات کو قبول نہیں کرے گا۔
Responses
تازہ ترین فیکٹ چیکس
Iran Sets Islamabad MoU Conditions for Strait of Hormuz Reopening
Iran has said the Strait of Hormuz will remain closed until seven conditions agreed under an interim understanding with the…
اسلام آباد مفاہمت کی 7 شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی: باقرقالیباف
ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا نے حال ہی میں ثالثوں کے ذریعے ایران کو کچھ تجاویز پیش کی ہیں، جبکہ تہران کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت میں طے کردہ سات شرائط پوری ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولی جائے گی۔
Ye ‘Islamabad MoU’ ka zikr ho raha hai, matlab Pakistan ka kirdar ahem tha. Is se regional stability aur hamari economy ke liye kya implications ho sakti hain?