بلاول نے کے پی میں سیاسی حل پر زور دیا، پی ٹی آئی مظاہرین سے بھی خطاب
ایک نظر میں
- بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے پی میں گورنر راج نافذ کرنے کے لیے تیار تھی۔
- انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے پہلے سیاسی حل کی وکالت کی۔
- اب انہوں نے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردی کا مل کر مقابلہ کیا جائے اور اسے سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔
اب تک کی صورتحال
پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی حکومت بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے پیش نظر خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے لیے تیار تھی، لیکن ان کی جماعت نے پہلے سیاسی حل پر زور دیا۔ گورنر راج کو 'آئینی ایٹم بم' قرار دیتے ہوئے انہوں نے پی ٹی آئی کی زیر قیادت کے پی حکومت کو خبردار کیا کہ وہ سیکیورٹی کی صورتحال کو سنجیدگی سے لے۔ انہوں نے عدم استحکام میں بھارتی مداخلت کا بھی الزام عائد کیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے خیبرپختونخوا کی صورتحال پر سیاسی حل کے اپنے مطالبے کو دہراتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے اور اس کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے مظاہرین کو یہ بھی بتایا کہ ان کا مظاہرہ 'کامیاب' رہا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
اپنے تازہ ترین ریمارکس میں، جناب بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ دہشت گردی کو سیاسی عینک سے نہیں دیکھنا چاہیے اور اس کا مل کر مقابلہ کرنا چاہیے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا احتجاج ’’کامیاب‘‘ رہا ہے اور اس نے اسلام آباد کو ’’ہلا کر رکھ دیا‘‘ ہے۔
اپنے ریمارکس میں، جناب بھٹو زرداری نے جاری عدم استحکام میں بھارت کے ملوث ہونے کا بھی الزام لگایا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان سے ہونے والی دہشت گردی اور حملوں کے پیچھے 'بھارت کا ہاتھ' کوئی 'چھپی ہوئی بات' نہیں ہے۔
تازہ ترین فیکٹ چیکس
گورنر راج یا ایمرجنسی سے پہلے سیاسی جماعتوں کو راستہ تلاش کرنا چاہیے: بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ گورنر راج یا ایمرجنسی سے پہلے سیاسی جماعتوں کو راستہ تلاش کرنا چاہیے۔
Bilawal says Centre was ready to impose emergency in KP but PPP sought 'political solution'
PPP Chairman Bilawal Bhutto-Zardari on Saturday said the federal government had made up its mind to impose emergency or governor’s rule in Khyber Pakhtunkhwa; however, his party suggested finding a political solution to fight terrorism in a “better w
Responses