مرکزی خبر پر جائیں
0سکے

قیدی کے مہلک انجیکشن سے بچ جانے کے بعد ٹینیسی میں سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا گیا

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: قیدی کے مہلک انجیکشن سے بچ جانے کے بعد ٹینیسی میں سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا گیا
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • ٹینیسی نے سال کے بقیہ حصے کے لیے تمام سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا ہے۔
  • یہ روک ایک ناکام سزائے موت کے بعد لگائی گئی جس میں قیدی کرسٹا پائیک دو مہلک انجیکشنوں سے بچ گئیں۔
  • پائیک کے ساتھی کو کم سزا ملی کیونکہ وہ جرم کے وقت نابالغ تھا۔

اب تک کی صورتحال

امریکی ریاست ٹینیسی میں کرسٹا پائیک کی ناکام سزائے موت کے بعد پھانسیوں پر عملدرآمد روک دیا گیا ہے، جو دو مہلک انجیکشن کی کوششوں سے بچ گئی تھیں۔ پائیک کو 1995 میں کیے گئے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی جب وہ 18 سال کی تھیں؛ ان کے 17 سالہ ساتھی کو یہ سزا نہیں دی گئی۔ گورنر بل لی نے ریاست کے سزائے موت کے پروٹوکول کا جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

ٹینیسی کے گورنر بل لی نے قیدی کرسٹا پائیک کو سزائے موت دینے کی ناکام کوشش کے بعد سال کے بقیہ حصے کے لیے تمام سزائے موت پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ پائیک دو مہلک انجیکشنوں سے بچ گئیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 1995 کے قتل میں اس کے ساتھی، ٹاڈیرل شپ کو سزائے موت سے اس لیے بچا لیا گیا تھا کیونکہ وہ اس وقت نابالغ تھا۔

تازہ ترین اپڈیٹس

ٹینیسی میں مہلک انجیکشن کی کوشش سے بچ جانے والی قیدی کرسٹا پائیک کے کیس سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ 1995 کے قتل میں پائیک کے ساتھی، ٹاڈیرل شپ کو کم سزا ملی اور اسے سزائے موت نہیں دی گئی کیونکہ جرم کے وقت اس کی عمر 17 سال تھی، جبکہ پائیک 18 سال کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق پائیک کی قانونی چارہ جوئی امریکی سپریم کورٹ تک گئی، جس نے بالآخر سزائے موت پر عملدرآمد نہیں روکا۔

Responses

تازہ ترین فیکٹ چیکس

Nawai Waqt

امریکی ریاست ٹینیسی میں سزائے موت کی قیدی خاتون زہر کا انجکشن دیے جانے کے باوجود زندہ بچ گئی

امریکی ریاست ٹینیسی میں تین دہائیوں قبل اپنی ہم جماعت کے قتل کے جرم میں سزائے موت پانے والی قیدی سزا پر عملدرآمد کے دوران زہر کا انجیکشن لگائے جانے کے باوجود زندہ بچ گئی۔

>

Share story