مرکزی خبر پر جائیں
0سکے

16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پر پابندی کا کوئی قانون نہیں، پی ٹی اے کا ہائیکورٹ کو جواب

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پر پابندی کا کوئی قانون نہیں، پی ٹی اے کا ہائیکورٹ کو جواب
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • پی ٹی اے نے متعلقہ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ میں جواب جمع کرا دیا۔
  • اتھارٹی کا کہنا ہے کہ 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا کوئی موجودہ قانون نہیں ہے۔
  • ایک رپورٹ میں بچوں کے آن لائن تحفظ کے لیے نئے قانونی ڈھانچے کی ضرورت تجویز کی گئی ہے۔

اب تک کی صورتحال

اسلام آباد ہائیکورٹ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے ممکنہ سوشل میڈیا پابندی سے متعلق کیس میں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اپنا سرکاری جواب جمع کرا دیا ہے۔ اتھارٹی نے واضح کیا کہ ایسی پابندی کو نافذ کرنے کے لیے فی الحال کوئی قانونی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ پی ٹی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ عمر کی تصدیق کا نظام نہیں بنا سکتی کیونکہ یہ اس کے قانونی اختیار سے تجاوز کرے گا۔ عدالت میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں بچوں کو آن لائن تحفظ فراہم کرنے کے لیے نئی پالیسیوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے اسلام آباد ہائیکورٹ کو مطلع کیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا فی الحال کوئی قانون نہیں ہے، اور کہا کہ وہ اپنے قانونی اختیارات سے باہر عمر کی تصدیق کا نظام نہیں بنا سکتی۔

Responses

تازہ ترین فیکٹ چیکس

>

Share story