مرکزی خبر پر جائیں
0سکے

وضاحتی رپورٹ: کسی صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے؟

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: وضاحتی رپورٹ: کسی صوبے میں ایمرجنسی یا گورنر راج کیسے نافذ کیا جا سکتا ہے؟
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • قومی ایمرجنسی (آرٹیکل 232) جنگ، جارحیت یا شدید اندرونی خلفشار کی وجہ سے لگائی جا سکتی ہے۔
  • گورنر راج (آرٹیکل 234) اس وقت نافذ کیا جا سکتا ہے جب صوبائی حکومت آئین کے مطابق نہ چل سکے۔
  • دونوں اقدامات کے لیے پارلیمانی منظوری ضروری ہے اور یہ ہائی کورٹس کے اختیارات پر اثرانداز نہیں ہوتے۔

اب تک کی صورتحال

کسی صوبے میں وفاقی حکمرانی کے نفاذ کے حوالے سے بحث میں دو کلیدی آئینی میکانزم شامل ہیں: قومی ایمرجنسی (آرٹیکل 232) اور گورنر راج (آرٹیکل 234)۔ ایمرجنسی کا اعلان صدر کی جانب سے جنگ، بیرونی جارحیت، یا صوبے کے کنٹرول سے باہر اندرونی خلفشار کی بنیاد پر کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے پارلیمانی منظوری درکار ہوتی ہے۔ گورنر راج اس وقت نافذ کیا جاتا ہے جب صدر، گورنر کی رپورٹ پر، یہ پائیں کہ صوبائی حکومت کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔ دونوں صورتوں میں، عدلیہ کے اختیارات محفوظ رہتے ہیں۔

تازہ ترین پیش رفت

خیبرپختونخوا سے متعلق سیاسی قیاس آرائیوں کے درمیان، قومی ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ کی آئینی دفعات پر ایک نظر۔ آرٹیکل 232 کے تحت قومی ایمرجنسی جنگ یا شدید اندرونی خلفشار کے وقت لگائی جا سکتی ہے، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج اس وقت لاگو ہوتا ہے جب کوئی صوبائی حکومت آئین کے مطابق کام نہ کر سکے۔

Responses

تازہ ترین فیکٹ چیکس

>

Share story