پشاور ہائیکورٹ نے 9 مئی ریڈیو پاکستان کیس میں پراسیکیوٹر کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی
ایک نظر میں
- پشاور ہائیکورٹ نے 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں اسپیشل پراسیکیوٹر کی نظرثانی درخواست مسترد کر دی۔
- عدالت کے فیصلے نے انسداد دہشت گردی عدالت کے سابقہ حکم کو برقرار رکھا ہے۔
- فرانزک رپورٹس میں نامزد وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو سزا کی صورت میں نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اب تک کی صورتحال
9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر حملے کے کیس میں فرانزک رپورٹس کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرنے والی اسپیشل پراسیکیوٹر کی ابتدائی درخواست پشاور ہائیکورٹ نے مسترد کر دی تھی۔ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور نادرا کی ان رپورٹس میں وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی سمیت متعدد افراد کو نامزد کیا گیا تھا۔ پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ شواہد جمع کرانے کا طریقہ کار ناقص تھا۔ ابتدائی درخواست مسترد ہونے کے بعد، پراسیکیوٹر نے نظرثانی کی درخواست دائر کی، جسے اب پی ایچ سی نے بھی مسترد کر دیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
پشاور ہائیکورٹ نے 9 مئی ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں اسپیشل پراسیکیوٹر کی نظرثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ سزا کی صورت میں وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کو نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
پشاور ہائیکورٹ نے 9 مئی کو ریڈیو پاکستان پر حملے کے کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے اسپیشل پراسیکیوٹر کی جانب سے دائر نظرثانی کی درخواست خارج کر دی ہے۔ اس درخواست میں ان فرانزک رپورٹس کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا تھا جن میں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت متعدد افراد کو ملوث کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق، اس کیس میں سزا کی صورت میں وزیراعلیٰ کو عہدے سے ہٹایا جا سکتا ہے، صوبائی حکومت تحلیل ہو سکتی ہے اور انہیں عوامی عہدے کے لیے تاحیات نااہل قرار دیا جا سکتا ہے۔
Responses