سیکیورٹی فورسز پر مہلک حملوں کے بعد پارلیمنٹیرینز کی کے پی حکومت پر تنقید
ایک نظر میں
- اراکین پارلیمنٹ نے دہشت گردی میں اضافے پر کے پی حکومت کی مذمت کی ہے۔
- کوہاٹ میں حالیہ حملے میں مبینہ طور پر تقریباً 18 پولیس اہلکار شہید ہوئے۔
- ایک اور حملے میں تقریباً 12 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید ہوئے۔
اب تک کی صورتحال
پاکستانی پارلیمنٹیرینز خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال پر بحث کر رہے ہیں، اور بہت سے لوگ دہشت گردی کی حالیہ لہر سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت کے اقدامات پر تنقید کر رہے ہیں۔ اس بحث کو کم از کم دو بڑے حملوں نے ہوا دی: ایک کوہاٹ میں جس میں تقریباً 18 پولیس اہلکار شہید ہوئے، اور دوسرا جس میں 12 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ کچھ قانون سازوں نے صوبائی قیادت کی توجہ پر سوال اٹھایا ہے اور گورنر راج کے نفاذ کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
ایک پارلیمانی بحث کے دوران، قانون سازوں نے خیبر پختونخوا میں حالیہ مہلک حملوں کی تفصیلات ظاہر کیں، جن میں کوہاٹ میں پولیس لائنز پر ایک حملہ بھی شامل ہے جس میں مبینہ طور پر تقریباً 18 افسران شہید ہوئے اور ایک اور حملے میں 12 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔ اراکین نے بڑھتے ہوئے تشدد پر صوبائی حکومت کے ردعمل پر شدید تنقید کی۔
تازہ ترین اپڈیٹس
یہ تنقید صوبے میں حال ہی میں ہونے والے کم از کم دو بڑے حملوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ پارلیمنٹ میں شیئر کی گئی تفصیلات کے مطابق، گزشتہ ہفتے کوہاٹ میں پولیس لائنز پر حملے کے نتیجے میں تقریباً 18 پولیس اہلکار شہید اور 36 دیگر زخمی ہوئے تھے۔ ایک علیحدہ، حالیہ حملے میں مبینہ طور پر تقریباً 12 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار شہید اور 30 سے 35 دیگر افراد زخمی ہوئے۔ بحث کے دوران، قانون سازوں نے صوبائی وزیر اعلیٰ پر تشدد کے باوجود اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے کا الزام عائد کیا۔
Responses