کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا لاہور میں ناکہ بندی کا الزام، سیکیورٹی مسترد کردی
ایک نظر میں
- کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو لاہور پہنچنے پر خود ٹریفک کنٹرول کرتے دیکھا گیا۔
- آفریدی نے بعد میں الزام لگایا کہ ان کے قافلے کے لیے ناکہ بندی کی گئی تھی۔
- انہوں نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ پر تنقیدی ریمارکس دیتے ہوئے پنجاب حکومت کی سیکیورٹی کو عوامی طور پر مسترد کر دیا۔
اب تک کی صورتحال
ہفتے کے روز لاہور پہنچنے پر خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا دورہ ٹریفک مینجمنٹ پر تنازعے کا شکار ہوگیا۔ انتظامات پر ناپسندیدگی کا اظہار کرنے کے بعد انہیں ذاتی طور پر گاڑیاں ہٹواتے ہوئے دیکھا گیا۔ بعد ازاں، ایک میڈیا ٹاک میں، آفریدی نے الزام لگایا کہ ان کے راستے پر جان بوجھ کر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں اور انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سیکیورٹی کو عوامی طور پر مسترد کرتے ہوئے شدید سیاسی تنقید کی۔
تازہ ترین پیش رفت
لاہور پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کے پی کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے الزام عائد کیا کہ حکام نے ان کے قافلے کے لیے ناکہ بندی کی تھی۔ انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سیکیورٹی کو عوامی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے ان بے گھر لوگوں کی کوئی سیکیورٹی نہیں چاہیے جنہوں نے میرے اشتیاق احمد کو شہید کیا۔‘‘
تازہ ترین اپڈیٹس
واقعے کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سخت سیاسی بیانات دیے۔ انہوں نے دعویٰ کیا، ’’آج میں پنجاب میں داخل ہوا، انہوں نے جگہ جگہ پر ناکہ بندی کی ہوئی تھی۔ میں عمران خان کا سپاہی ہوں، میرے لیے کوئی روٹ نہیں لگایا گیا تھا۔‘‘
انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے فراہم کردہ سیکیورٹی انتظامات کو مسترد کر دیا۔ آفریدی نے کہا، ’’جس طرح پنجاب کی جعلی وزیر اعلیٰ کہتی ہیں کہ انہیں خطرہ ہے... مجھے پنجاب کے اپنے بہن بھائیوں سے کوئی خطرہ نہیں۔ مجھے ان بے گھر لوگوں کی کوئی سیکیورٹی نہیں چاہیے جنہوں نے میرے اشتیاق احمد کو شہید کیا۔‘‘
Responses