سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کا آغاز، 32 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا
ایک نظر میں
- سپریم کورٹ میں موسم گرما کی تعطیلات کے بعد نئے عدالتی سال کا آغاز ہو گیا ہے۔
- اس وقت عدالت عظمیٰ میں 32 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔
- 22,183 مقدمات نئی وفاقی آئینی عدالت میں منتقل ہونے کے بعد مقدمات کا بوجھ کم ہوا ہے۔
اب تک کی صورتحال
چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے حال ہی میں سپریم کورٹ کی ”ڈیجیٹلی انٹیگریٹڈ ادارے“ کی طرف منتقلی کی تفصیلات بتائی تھیں۔ اس منصوبے میں تمام زیر التوا مقدمات کی اسکیننگ اور درجہ بندی شامل ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے لیے چین اور ترکی کی عدالتوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں، جبکہ مزید بین الاقوامی تعاون کا بھی منصوبہ ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
سپریم کورٹ نے اپنے نئے عدالتی سال کا آغاز 32 ہزار سے زائد زیر التوا مقدمات کے ساتھ کیا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، یہ وفاقی آئینی عدالت کو 22,183 مقدمات کی منتقلی کے بعد ہوا ہے، جس سے 56 ہزار سے زائد کی سابقہ تعداد سے مقدمات کا بوجھ کم ہوا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
سپریم کورٹ آف پاکستان میں موسم گرما کی تعطیلات کے بعد پیر کو نئے عدالتی سال کا آغاز ہو گیا ہے، اور رپورٹس کے مطابق اس وقت 32 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، مقدمات کے بوجھ میں 56 ہزار سے زائد کی سابقہ تعداد سے کمی آئی ہے۔ یہ کمی سپریم کورٹ سے نو قائم شدہ وفاقی آئینی عدالت میں 22,183 مقدمات کی منتقلی کے بعد ہوئی ہے۔
اپنے خطاب میں چیف جسٹس آفریدی نے سپریم کورٹ کے ادارہ جاتی صلاحیت کو مضبوط بنانے کے مقصد سے کیے گئے بین الاقوامی تعاون کی بھی تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ چین کی سپریم پیپلز کورٹ اور ترکی کی آئینی عدالت کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط ہو چکے ہیں۔
مزید معاہدوں پر کام جاری ہے، جن میں کوریا کی سپریم کورٹ کے ساتھ ایک ایم او یو اکتوبر کے وسط میں حتمی شکل اختیار کرنے کی توقع ہے، اور آذربائیجان کی سپریم کورٹ اور ترکی کی کورٹ آف کیسیشن کے ساتھ ایک اور معاہدہ نومبر کے لیے طے پا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ برطانیہ، روس، سنگاپور، ملائیشیا اور امریکہ کے عدالتی اداروں کے ساتھ بھی تعاون پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے خاص طور پر چین، ترکی، روس اور ملائیشیا کو سائبر سیکیورٹی کی ترقی کے لیے اہم شراکت داروں کے طور پر شناخت کیا۔ اس مقصد کے لیے، انہوں نے بتایا کہ دو عدالتی گروپ پہلے ہی خصوصی آئی ٹی تربیت کے لیے ترکی اور پانچ چین بھیجے جا چکے ہیں۔
چیف جسٹس کے مطابق، جسٹس محمد علی مظہر تکنیکی ترقی کی نگرانی کر رہے ہیں۔
Responses