مرکزی خبر پر جائیں

افغانستان دوبارہ القاعدہ کا مرکز بن رہا ہے، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: افغانستان دوبارہ القاعدہ کا مرکز بن رہا ہے، واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ نے افغانستان میں کم از کم 8 نئے تربیتی کیمپ قائم کیے ہیں۔
  • رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان پر حملوں کے لیے 7,000 ٹی ٹی پی جنگجو افغانستان میں موجود ہیں۔
  • اطلاعات کے مطابق القاعدہ دیگر گروہوں کو تربیت فراہم کر رہی ہے، جن میں ٹی ٹی پی کے خودکش بمبار بھی شامل ہیں۔

اب تک کی صورتحال

واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 9/11 حملوں کے 25 سال بعد افغانستان ایک بار پھر القاعدہ کا تربیتی مرکز بن رہا ہے۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ القاعدہ نے کم از کم آٹھ نئے تربیتی مراکز قائم کیے ہیں اور کم از کم 14 صوبوں میں اس کی موجودگی ہے۔ اس میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً 7,000 ٹی ٹی پی جنگجو افغانستان میں موجود ہیں اور وہاں سے پاکستان کے خلاف سینکڑوں حملے کر چکے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ القاعدہ ٹی ٹی پی سمیت دیگر گروہوں کو فعال طور پر تربیت دے رہی ہے۔ ایک پاکستانی دفاعی تجزیہ کار نے اس صورتحال کو خطے کے لیے 'انتہائی خطرناک' قرار دیا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں اب دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً 7,000 ٹی ٹی پی جنگجو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے افغانستان میں موجود ہیں، جہاں سے مبینہ طور پر انہوں نے پاکستانی اہداف پر سینکڑوں حملے کیے ہیں۔

تازہ ترین اپڈیٹس

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ میں مزید الزام لگایا گیا ہے کہ اس وقت تقریباً 7,000 تحریک طالبان پاکستان (TTP) کے جنگجو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے افغانستان میں موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ٹی ٹی پی نے افغانستان کو پاکستان آرمی کی چوکیوں اور دیگر اہداف پر سینکڑوں حملے کرنے کے لیے ایک اڈے کے طور پر استعمال کیا ہے۔

افغانستان میں القاعدہ کے دوبارہ سرگرم ہونے کی رپورٹ شائع ہونے کے بعد، پاکستانی دفاعی تجزیہ کار عبداللہ حامد گل نے اس صورتحال کو خطے کے لیے 'انتہائی خطرناک' قرار دیا ہے۔

اپنے تبصرے میں، گل نے کہا کہ افغانستان میں نہ صرف عسکریت پسند گروپ جمع ہو رہے ہیں، بلکہ ان کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان گروپوں کو جدید جنگی تکنیک کی تربیت دی جا رہی ہے۔ تجزیہ کار نے یہ بھی کہا کہ طالبان حکومت ان سرگرمیوں سے واقف ہے۔

انہوں نے افغانستان کو فلاحی فنڈز فراہم کرنے والے ممالک سے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کیا اور امریکہ پر زور دیا کہ وہ ملک میں چھوڑے گئے فوجی سازوسامان کو یا تو تباہ کر دے یا واپس لے جائے۔

Responses

تازہ ترین فیکٹ چیکس

>