انڈونیشیا میں بحری جہاز ڈوب گیا، 115 افراد کو بچا لیا گیا، 100 سے زائد لاپتہ
ایک نظر میں
- انڈونیشیا کا ایک مسافر بردار بحری جہاز تقریباً 240 افراد کے ساتھ بحیرہ جاوا میں ڈوب گیا ہے۔
- امدادی کارروائیاں جاری ہیں، اب تک 115 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔
- ایک شخص کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، اور 100 سے زائد افراد لاپتہ ہیں۔
اب تک کی صورتحال
ایک مسافر بردار بحری جہاز، جس کی شناخت ورگو ٹرانسپورٹ 8 کے نام سے ہوئی ہے، سورابایا سے بنجرماسین جاتے ہوئے بحیرہ جاوا میں الٹ کر ڈوب گیا۔ جہاز پر تقریباً 240 افراد سوار تھے اور اسے خراب موسم کا سامنا کرنا پڑا۔ متعدد جہازوں اور سینکڑوں اہلکاروں پر مشتمل ایک بڑے پیمانے پر سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا۔
تازہ ترین پیش رفت
قومی ریسکیو ایجنسی کے مطابق، ڈوبنے والی انڈونیشیائی مسافر فیری سے بچائے گئے افراد کی تعداد بڑھ کر 115 ہو گئی ہے۔ ایک ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 100 سے زائد لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
پیر کو انڈونیشیائی ریسکیو ایجنسی کی جانب سے ایک اپ ڈیٹ میں تصدیق کی گئی کہ بچائے گئے مسافروں کی تعداد بڑھ کر 115 ہو گئی ہے۔ اب تک ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ حکام کے مطابق، تقریباً 240 افراد کو لے جانے والی فیری اپنی منزل کی بندرگاہ سے تقریباً 148 کلومیٹر دور تھی جب اس نے آخری بار رابطہ کیا، اور بتایا کہ اسے خراب موسم کا سامنا ہے۔
انڈونیشیا کے ایک ریسکیو اہلکار نے پیر کو بتایا کہ بحیرہ جاوا میں مسافر بردار بحری جہاز 'ورگو ٹرانسپورٹ 8' کے ڈوبنے سے ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے، جبکہ 129 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اب تک کل 108 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔
یہ جہاز 243 افراد کو سورابایا سے بنجرماسین لے جا رہا تھا اور اتوار کی صبح خراب موسم میں الٹ گیا۔ بنجرماسین ریسکیو ایجنسی کے سربراہ آئی پوتو سودایانا کے مطابق، 622 اہلکاروں اور تقریباً 12 بحری جہازوں پر مشتمل ایک بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن جاری ہے۔
رپورٹس کے مطابق، جہاز تیز لہروں کی زد میں آنے کے بعد ایک طرف بری طرح جھک گیا تھا۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق، بحری جہاز ڈوبنے کے وقت بندرگاہ سے تقریباً 148 کلومیٹر دور تھا۔
انڈونیشیا کی ریسکیو ایجنسی کے مطابق، بحیرہ جاوا میں ڈوبنے والے مسافر جہاز سے بچائے گئے افراد کی تعداد بڑھ کر 115 ہوگئی ہے۔
بعد کی اطلاعات نے تصدیق کی ہے کہ مسافر بردار جہاز، ورگو ٹرانسپورٹ 8، بحیرہ جاوا میں ڈوب گیا ہے۔ جہاز کی آخری معلوم پوزیشن پر بھی نظر ثانی کر کے اسے بنجرماسین کی بندرگاہ سے تقریباً 108 کلومیٹر دور بتایا گیا ہے، جو ابتدائی طور پر بتائے گئے 148 کلومیٹر سے زیادہ قریب ہے۔
Responses
You must be logged in to post a comment.
تازہ ترین فیکٹ چیکس
Indonesia rescuers searching for 129 people still missing after passenger ship capsizes
JAKARTA: More than 600 Indonesian rescuers were searching for 129 people still missing after a passenger ship capsized in the Java Sea on the weekend, an official said on Monday, with the death toll steady at six. The Virgo Transport 8 ship carryin
انڈونیشیا : 200 سے زائد مسافروں کو لے جانے والا بحری جہاز لاپتا
انڈونیشیا میں 243 مسافروں کو لے جانے والا بحری جہاز ’ورگو ٹرانسپورٹ 8‘ جاوا سمندر میں لاپتا ہوگیا۔
Rescuers searching for 140 people after Indonesia passenger ship sinks in Java Sea, agency says
Indonesian rescuers were searching on Sunday for 140 people from a passenger ship that sank in the Java Sea after 103 others were evacuated, one of whom died, a search and rescue agency official said. An Indonesian passenger ship carrying 243 people
Rescuers searching for 140 people from Indonesia passenger ship, official says
JAKARTA: Indonesian rescuers were searching on Sunday for 140 people from a passenger ship that was earlier reported missing in the Java Sea after 103 others were evacuated, one of whom died, a search and rescue agency official said. An Indonesia
انڈونیشیا میں 243 مسافروں سے بھری کشتی لاپتا، 103 افراد کو ریسکیو کرلیا گیا
انڈونیشیا میں ایک مسافر بحری جہاز لاپتا ہوگیا جس میں 243 مسافر سوار تھے۔
The report mentions ‘bad weather.’ It makes one wonder if changing climate patterns are making these sea routes more dangerous. This may require better weather prediction and stricter safety protocols for all vessels.
یہ بہت افسوسناک واقعہ ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ نقل و حمل کے تمام شعبوں میں حفاظتی معیارات کو سختی سے نافذ کرنا کتنا ضروری ہے۔
Bilkul sahi kaha. Sirf ferries nahi, buson aur doosri public transport ki bhi regular technical inspection aur regulations ka sakhti se paalan hona chahiye. Insani janain qeemti hain.
Heartbreaking news. Search and rescue operations in bad weather are incredibly challenging. Hoping the teams can find more survivors.
Such a terrible tragedy. My thoughts are with the families of those missing. Praying for the safety of the others.