مرکزی خبر پر جائیں

ایران نے واضح کیا کہ عمان معاہدے سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، امریکہ کو شرائط پیش

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: ایران نے واضح کیا کہ عمان معاہدے سے آبنائے ہرمز نہیں کھلے گی، امریکہ کو شرائط پیش
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے امریکہ کے سامنے سات شرائط رکھی ہیں۔
  • عمان کے ساتھ نیا ٹرانزٹ معاہدہ خود بخود آبنائے کو نہیں کھولے گا۔
  • مجوزہ نیا راستہ ایرانی پانیوں سے گزرے گا، جس سے جنوبی چینل بند ہو جائے گا۔

اب تک کی صورتحال

ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو سات شرائط پیش کی ہیں، اور خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو آبی گزرگاہ بند رہے گی۔ اس کے علاوہ، ایران مسقط میں عمان، عراق اور دیگر خلیجی ریاستوں کے ساتھ ایک نئے سمندری ٹرانزٹ معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایک اجلاس کی میزبانی کرنے والا ہے۔ اس نئے منصوبے کے تحت ٹریفک کو ایرانی علاقائی پانیوں سے گزارا جائے گا اور ایک جنوبی چینل بند کر دیا جائے گا، لیکن ایران نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ خود آبنائے کو نہیں کھولے گا۔

تازہ ترین پیش رفت

ایران نے واضح کیا ہے کہ عمان کے ساتھ ایک منصوبہ بند ٹرانزٹ معاہدہ اپنے طور پر آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کا باعث نہیں بنے گا۔ تہران نے الگ سے ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو سات شرائط پیش کی ہیں، اور کہا ہے کہ جب تک یہ پوری نہیں ہوتیں آبی گزرگاہ بند رہے گی۔

تازہ ترین اپڈیٹس

ایران نے واضح کیا ہے کہ سلطنت عمان کے ساتھ طے پانے والا ٹرانزٹ معاہدہ اپنے طور پر آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے کا باعث نہیں بنے گا۔ یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب تہران نے مبینہ طور پر ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو اس اہم آبی گزرگاہ کی بندش کے خاتمے کے لیے سات شرائط پیش کی ہیں۔

روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق، سات شرائط کی تفصیلات منظر عام پر نہیں لائی گئیں، لیکن ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اس کے مطالبات پورے نہ ہوئے تو آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ پیر کو مسقط میں ہونے والے اجلاس میں اب دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ عراق کے مندوبین بھی شامل ہوں گے، جنہیں نئے ٹرانزٹ انتظامات پر بریفنگ دی جائے گی۔

ذرائع اور اپڈیٹس

GNN

Responses

>