حوثیوں کا یمنی وزیر دفاع طاہر العقیلی کو اغوا کرنے کا دعویٰ
ایک نظر میں
- حوثی تحریک نے یمنی وزیر دفاع طاہر العقیلی کو پکڑنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
- مبینہ طور پر وزیر کے قافلے پر الصالح گورنری میں حملہ کیا گیا تھا۔
- الگ سے، اطلاعات ہیں کہ یمنی فوج نے حوثیوں کے متوازی وزیر دفاع کو نشانہ بنایا۔
اب تک کی صورتحال
یمن کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل طاہر العقیلی کے قافلے پر الصالح گورنری میں حملے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے دوران مبینہ طور پر انہیں اور ان کے محافظوں کو یرغمال بنا لیا گیا۔ بعد ازاں حوثی تحریک نے اس کارروائی کی ذمہ داری قبول کر لی۔ ایک علیحدہ واقعے میں، یمنی فوج نے مبینہ طور پر صوبہ تعز میں حوثیوں کے متوازی وزیر دفاع محمد ناصر کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا، تاہم ان کی قسمت غیر مصدقہ ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
10 ستمبر کی رپورٹس کے مطابق، حوثی تحریک نے یمنی وزیر دفاع طاہر العقیلی اور ان کے محافظوں کو پکڑنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
جمعرات، 10 ستمبر کو موصول ہونے والی نئی رپورٹس کے مطابق، حوثی تحریک نے یمن کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل طاہر العقیلی اور ان کے محافظوں کو پکڑنے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔
روسی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یمن کے وزیر دفاع طاہر العقیلی کو ان کے قافلے پر حملے کے بعد یرغمال بنا لیا گیا ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق، وزیر الصالح گورنریٹ کے دورے پر تھے جب یہ حملہ ہوا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ وزیر کے محافظوں میں سے ایک کو قیدی بنا لیا گیا ہے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
یمن کے وزیر دفاع کے قافلے پر حملہ، یرغمال بنائے جانے کا دعویٰ
یمن کے وزیر دفاع طاہر العقیلی کے قافلے پر حملہ کرکے انہیں یرغمال بنانے کا دعویٰ کیاگیا ہے۔
یمن میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ، وزیر دفاع کے قافلے پر حملہ، حراست میں لے لیا
یمن میں سکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی، بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کے وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل طاہر علی کے قافلے پر صوبہ الضالع میں حملے اور گھیراؤ کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
Responses