مرکزی خبر پر جائیں

ٹرمپ کا عندیہ، ایران جنگ وسط مدتی انتخابات کے بعد ختم ہو سکتی ہے

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: ٹرمپ کا عندیہ، ایران جنگ وسط مدتی انتخابات کے بعد ختم ہو سکتی ہے
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • امریکی صدر ٹرمپ کا عندیہ، ایران کے ساتھ جنگ وسط مدتی انتخابات کے بعد ختم ہو سکتی ہے۔
  • امریکہ اقتصادی دباؤ بڑھانے کے لیے ایک بڑے ایرانی بینک پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
  • یہ تنازع چھ ماہ سے زائد عرصے سے جاری ہے، فروری سے ایران نے زیادہ جارحانہ موقف اپنایا ہے۔

اب تک کی صورتحال

امریکہ اور ایران کے درمیان چھ ماہ سے زائد عرصے سے جاری تنازعے کے خاتمے کے حوالے سے حالیہ پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ختم ہو سکتی ہے۔ یہ پیش رفت ایک وسیع تر اقتصادی تنازع کے دوران ہوئی ہے، جس میں واشنگٹن ایک بڑے ایرانی بینک پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ دوسری جانب تہران نے امریکی اقتصادی حکمت عملی کو مسترد کر دیا ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی فروری میں وفات کے بعد تنازع میں شدت آئی، اور ایران کے IRGC نے جہازوں اور ایک امریکی اڈے پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

تازہ ترین پیش رفت

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تجویز دی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ آئندہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ختم ہو سکتی ہے، جس سے تنازع کے حل کے لیے ایک ممکنہ ٹائم لائن پیش کی گئی ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 11 ستمبر کی رپورٹس کے مطابق عندیہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ختم ہو سکتی ہے۔

دستیاب رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے ممکنہ ٹائم لائن پر تبصرہ کیا ہے۔ صدر کی جانب سے ذکر کردہ ٹائم لائن کی مخصوص تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں ہو سکیں۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق، امریکہ ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی کوششوں کے حصے کے طور پر پیر کو ایک بڑے بینک پر پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اگرچہ بینک یا ملک کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، بیسنٹ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد تہران کو جاری تنازع ختم کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نائن الیون حملوں کی برسی کی تقریبات کے باعث پابندیوں کو جمعہ سے مؤخر کر دیا گیا تھا۔

دریں اثنا، ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے عوامی سطح پر کہا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی واشنگٹن کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر، قالیباف نے مارکیٹ میں مداخلت اور اسٹریٹجک تیل کے ذخائر کے اجراء سمیت امریکی حکمت عملیوں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان تبدیل نہیں ہوا ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Nawai Waqt

واشنگٹن کے تمام اقدامات تیل کی قیمتوں میں اضافہ روکنے میں ناکام رہے ہیں، باقر قالیباف

ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے مارکیٹ میں مداخلت اور تیل کے سٹریٹجک ذخائر جاری کرنے سمیت مختلف اقدامات قیمتوں میں اضافے کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔

Dawn News

Defiant Iran seeks to bruise Trump ahead of midterms

Iran is intensifying confrontational actions against the United States in the hope of further raising the cost of the conflict for President Donald Trump less than two months ahead of the US midterm elections, according to analysts. Over half a year

GNN

Responses

>