مرکزی خبر پر جائیں

نیپرا نے بجلی 52 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی، صارفین پر اربوں کا اضافی بوجھ

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: نیپرا نے بجلی 52 پیسے فی یونٹ مہنگی کردی، صارفین پر اربوں کا اضافی بوجھ
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • بجلی کی قیمت میں 52 پیسے فی یونٹ کا اضافہ۔
  • یہ اضافہ اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کا حصہ ہے۔
  • اس سے صارفین پر تین ماہ میں 12 ارب 67 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

اب تک کی صورتحال

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اپریل تا جون 2026 کی سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے حصے کے طور پر بجلی کے ٹیرف میں 52 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دی ہے۔ یہ اضافہ، جو لائف لائن صارفین کو چھوڑ کر کے-الیکٹرک سمیت تمام تقسیم کار کمپنیوں کے صارفین پر لاگو ہوتا ہے، ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2026 کے بلوں کے ذریعے وصول کیا جائے گا۔ اس فیصلے سے صارفین کے اخراجات میں مجموعی طور پر 12 ارب 67 کروڑ روپے کا اضافہ ہوگا اور یہ اگست میں 75 پیسے فی یونٹ کے علیحدہ اضافے کے بعد سامنے آیا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں 52 پیسے فی یونٹ اضافہ کر دیا ہے، جس سے آئندہ تین ماہ کے دوران صارفین پر 12 ارب 67 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Nawai Waqt

صارفین پر اربوں روپے کا اضافی بوجھ!حکومت نے بجلی پھر مہنگی کردی

وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی کے بھاری بلوں سے پریشان عوام پر ایک اور بوجھ ڈال دیا گیا، نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں 52 پیسے کا اضافہ کردیا .جس کے بعد صارفین کو تین ماہ تک اضافی رقم ا

Responses

  1. Another quarterly adjustment. While 52 paisa per unit might seem small, these frequent increases add up and put a strain on household budgets. Is this cycle of adjustments based on international fuel prices a sustainable long-term strategy for our power sector?

    1. آپ نے درست کہا۔ مضمون میں درآمدی ایندھن کا ذکر ہے۔ کیا ہمیں بجلی پیدا کرنے کے لیے مقامی وسائل، جیسے تھر کا کوئلہ یا شمسی توانائی، پر زیادہ انحصار نہیں کرنا چاہیے؟ اس سے قیمتوں میں کچھ استحکام آ سکتا ہے۔

>