مرکزی خبر پر جائیں

برطانیہ: ہزاروں مسافروں کو متاثر کرنے والی ایئر ٹریفک کی ناکامی کی تحقیقات کا حکم

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: برطانیہ: ہزاروں مسافروں کو متاثر کرنے والی ایئر ٹریفک کی ناکامی کی تحقیقات کا حکم
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • برطانوی حکومت نے ایئر ٹریفک فراہم کنندہ NATS کو سسٹم کی بڑی ناکامی پر رپورٹ دینے کے لیے ایک ہفتے کا وقت دیا ہے۔
  • اس ناکامی کی وجہ سے لاکھوں مسافروں کی پروازیں منسوخ اور تاخیر کا شکار ہوئی ہیں۔
  • سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے ایک علیحدہ آزادانہ جائزے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

اب تک کی صورتحال

منگل کو برطانیہ کے قومی ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم (NATS) میں ایک بڑی تکنیکی خرابی کے باعث شدید اور مسلسل سفری مشکلات پیدا ہوئیں۔ جمعرات تک، 2,000 سے زائد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں، جس سے ہیتھرو، گیٹوک اور مانچسٹر سمیت بڑے ہوائی اڈے متاثر ہوئے۔ اگرچہ بدھ کو سسٹم بحال کر دیا گیا تھا، لیکن اس کے اثرات نے مسافروں کو پھنسائے رکھا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

برطانوی حکومت نے قومی ایئر ٹریفک فراہم کنندہ NATS کو حکم دیا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر سسٹم کی ناکامی کی وجہ پر رپورٹ پیش کرے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی کی طرف سے چھ ماہ کا ایک علیحدہ آزادانہ جائزہ بھی لیا جائے گا۔

تازہ ترین اپڈیٹس

برطانوی حکومت نے قومی ایئر ٹریفک کنٹرول فراہم کنندہ، NATS، کو ایک ہفتے کا وقت دیا ہے تاکہ وہ اس سسٹم کی ناکامی کی تحقیقات کرے جس کی وجہ سے پروازوں میں بڑے پیمانے پر خلل پڑا ہے۔ وزیر ٹرانسپورٹ ہیڈی الیگزینڈر نے واقعے کی وضاحت کے لیے NATS کے سی ای او مارٹن رولف کو طلب کیا۔

ملاقات کے بعد، وزیر نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ ان کے خیال میں یہ خرابی سائبر حملے کی وجہ سے نہیں ہوئی لیکن مزید کہا، ”مجھے یقین نہیں ہے کہ یہ مسئلہ ناگزیر تھا۔“ انہوں نے سول ایوی ایشن اتھارٹی (CAA) کی طرف سے ایک علیحدہ، آزادانہ جائزے کا اعلان کیا، جس سے چھ ماہ میں اپنی رپورٹ پیش کرنے کی توقع ہے۔

یہ واقعہ تین سالوں میں NATS کی دوسری بڑی ناکامی ہے، اس سے قبل اگست 2023 میں ایک بندش ہوئی تھی جس پر ایئر لائنز کو مبینہ طور پر 100 ملین پاؤنڈ کا نقصان ہوا تھا۔ Ryanair کے سی ای او مائیکل او لیری نے NATS کے سربراہ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا، جبکہ NATS نے برقرار رکھا کہ اس کے فلائٹ ڈیٹا سسٹم کا موجودہ مسئلہ 2023 کے واقعے سے مختلف تھا۔

جمعرات، 10 ستمبر کی رپورٹس کے مطابق، برطانیہ کے قومی ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم میں تکنیکی خرابی کے باعث پیدا ہونے والی وسیع پیمانے پر رکاوٹ کے نتیجے میں 2,000 سے زائد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہو چکی ہیں۔

بدھ، 9 ستمبر کو موصولہ اطلاعات کے مطابق، برطانیہ کا قومی ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم ایک بڑی تکنیکی خرابی کے بعد بحال کر دیا گیا ہے۔ منگل کو شروع ہونے والی اس خرابی کے بارے میں اب کہا جا رہا ہے کہ اس سے مجموعی طور پر 4,000 پروازیں متاثر ہوئیں، جس کی وجہ سے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر پروازیں منسوخ ہوئیں اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔

قومی ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم میں منگل کو پیش آنے والی بڑی تکنیکی خرابی کے بعد برطانیہ کے ہوائی اڈوں پر دوسرے دن بھی خلل جاری ہے۔ ایئر لائنز معمول کے مطابق پروازوں کے شیڈول کو بحال کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے مسافروں کو اب بھی تاخیر اور پروازوں کی منسوخی کا سامنا ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، برطانیہ کے ایئر ٹریفک کنٹرول سسٹم میں تکنیکی خرابی کے باعث منسوخ ہونے والی پروازوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

GNN

Responses

  1. It’s a stark reminder that even the most advanced systems can have a single point of failure. The cascading effect on thousands of people is immense. Makes you think about the resilience of our own critical digital infrastructure.

    1. Absolutely. This is why robust testing and having redundant, independent backup systems are non-negotiable for national infrastructure. I hope our own aviation authorities are taking notes on this incident.

  2. The knock-on effect must be a logistical nightmare. It’s not just about fixing the code, but rerouting planes, rebooking thousands of passengers, and managing crew schedules. So much complexity.

>