مرکزی خبر پر جائیں

40 روزہ نیب ریمانڈ آرڈیننس کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: 40 روزہ نیب ریمانڈ آرڈیننس کے خلاف درخواست پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے 40 روزہ نیب ریمانڈ آرڈیننس کی قانونی حیثیت پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔
  • درخواست میں آرڈیننس کو چیلنج کیا گیا تھا، جس نے جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 سے 40 دن کر دی تھی۔
  • درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ آرڈیننس غیر آئینی ہے اور اس کا ہدف پی ٹی آئی کے بانی ہیں۔

اب تک کی صورتحال

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی تھی جس میں نیب کیسز میں جسمانی ریمانڈ کی زیادہ سے زیادہ مدت 14 سے 40 دن تک بڑھانے والے صدارتی آرڈیننس کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ آرڈیننس اختیارات سے غیر آئینی تجاوز ہے، جبکہ حکومت نے درخواست کی مخالفت کی۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

تازہ ترین پیش رفت

اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کیسز میں جسمانی ریمانڈ کی زیادہ سے زیادہ مدت 14 سے 40 دن تک بڑھانے والے صدارتی آرڈیننس کو چیلنج کرنے والی درخواست پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔

تازہ ترین اپڈیٹس

اسلام آباد ہائیکورٹ (IHC) نے منگل کو قومی احتساب بیورو (نیب) کیسز میں جسمانی ریمانڈ کی زیادہ سے زیادہ مدت میں توسیع کرنے والے صدارتی آرڈیننس کو چیلنج کرنے والی درخواست پر اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد پہلے اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران، قومی احتساب بیورو (نیب) کے ریمانڈ کی مدت میں توسیع کرنے والے صدارتی آرڈیننس کے خلاف دلائل کی مزید تفصیلات پیش کی گئیں۔ درخواست گزار کے وکیل، اظہر صدیق نے جسٹس راجہ انعام امین منہاس کے سامنے مؤقف اپنایا کہ اس آرڈیننس کا خاص مقصد بانی پی ٹی آئی کی حراست کو طول دینا تھا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پارلیمنٹ پہلے ہی ریمانڈ کی مدت 90 سے کم کر کے 14 دن کر چکی تھی، اور اسے 40 دن تک بڑھانے کا صدارتی آرڈیننس ایک غیر آئینی اقدام تھا، جسے قومی اسمبلی نے مسترد کر دیا تھا۔

درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے، ڈپٹی اٹارنی جنرل میاں فیصل عرفان نے استدلال کیا کہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں ہیں اور اس آرڈیننس سے متعلق ایک معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں ختم ہو چکا ہے۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Nawai Waqt

نیب کیس میں جسمانی ریمانڈ کی مدت 40 دن کرنے سےمتعلق صدارتی آرڈیننس کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

اسلام آباد ہائی کورٹ نیب کیس میں جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کرنے کے صدارتی آرڈیننس کے اقدام کے خلاف کیس کی سماعت عدالت نے درخواست پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا۔

Responses

>