مرکزی خبر پر جائیں

اقوام متحدہ نے کشمیر کو متنازعہ ظاہر کرنے والا نیا نقشہ منظور کر لیا، بھارت نے بھی قرارداد کی حمایت کی

اس خبر کے لیے متحرک اداریاتی خاکہ: اقوام متحدہ نے کشمیر کو متنازعہ ظاہر کرنے والا نیا نقشہ منظور کر لیا، بھارت نے بھی قرارداد کی حمایت کی
0:000:00
اے آئی کی مدد سے تیار کردہ اداریاتی خاکہ — یہ تصویر نہیں ہے۔

ایک نظر میں

  • اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کشمیر کو متنازعہ علاقہ ظاہر کرنے والا نیا معیاری نقشہ اپنا لیا ہے۔
  • قرارداد بھارت سمیت 164 ممالک کی حمایت سے منظور ہوئی۔
  • بھارت نے وضاحت کی کہ اس کے ووٹ کی حمایت نقشے کے پروجیکشن کے لیے تھی، نہ کہ اس کی سرحدوں کے لیے، پاکستان نے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔

اب تک کی صورتحال

8 ستمبر 2026 کو، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 'ایکول ارتھ' نقشے کو اپنے نئے معیار کے طور پر اپنانے کے لیے ایک قرارداد منظور کی۔ یہ نقشہ کشمیر کو ایک متنازعہ علاقے کے طور پر پیش کرتا ہے اور لائن آف کنٹرول کو ایک نقطے دار لکیر سے نشان زد کرتا ہے۔ اس قرارداد کی حمایت بھارت سمیت 164 ممالک نے کی۔ ووٹنگ کے بعد، بھارت کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس کی حمایت نقشے کے پروجیکشن کے لیے تھی، نہ کہ دکھائی گئی سرحدوں کے لیے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس وضاحت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نقشہ موجودہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تقویت دیتا ہے۔

تازہ ترین پیش رفت

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک نیا معیاری عالمی نقشہ اپنایا ہے جس میں کشمیر کو ایک متنازعہ علاقے کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ یہ قرارداد بھارت سمیت 164 ممالک کی حمایت سے منظور ہوئی، جسے ایک اہم سفارتی پیشرفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

ذرائع اور اپڈیٹس

Nawai Waqt

بھارت کی حمایت سے منظور اقوام متحدہ کے معیاری عالمے نقشے میں کشمیر متنازع علاقہ قرار

اقوام متحدہ نے معیاری عالمی نقشے میں کشمیر کو متنازع علاقہ قرار دے دیا ہے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے نقشے درست کرو قرارداد کو منظور کرلیا. جس کی بھارت نے بھی قراداد کی حمایت کر دی۔

Responses

>