نئے صوبوں کی تشکیل پر مسلم لیگ (ن) نے اپنا فیصلہ سنا دیا
ایک نظر میں
- مسلم لیگ (ن) نے نئے صوبوں کی تشکیل پر اپنے فیصلے کا اعلان کر دیا ہے۔
- پی پی پی اور سندھ اسمبلی سندھ کی کسی بھی تقسیم کی مخالفت پر قائم ہیں۔
- جنوبی پنجاب صوبے کے حامی بہتر تعلیم کو ایک اہم وجہ قرار دیتے ہیں۔
اب تک کی صورتحال
پاکستان میں نئے صوبوں کی تشکیل پر قومی بحث کا آغاز وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی انتظامی اصلاحات کی تجویز سے ہوا۔ حامی بہتر حکمرانی کے لیے جنوبی پنجاب جیسی چھوٹی اکائیوں کے حق میں ہیں۔ تاہم، اس تجویز کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے، خاص طور پر سندھ میں، جہاں پی پی پی کی زیر قیادت صوبائی اسمبلی نے آئینی رکاوٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے صوبے کی کسی بھی تقسیم کو مسترد کرنے کی قرارداد منظور کی۔ اب مسلم لیگ (ن) نے بھی اس معاملے پر اپنا سرکاری مؤقف بیان کر دیا ہے۔
تازہ ترین پیش رفت
پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ملک میں نئے انتظامی صوبوں کی تشکیل پر جاری قومی بحث کے حوالے سے اپنے فیصلے کا اعلان کر دیا ہے۔
تازہ ترین اپڈیٹس
دستیاب اطلاعات کے مطابق، پاکستان مسلم لیگ (ن) نے نئے انتظامی صوبوں کی تشکیل پر جاری قومی بحث کے حوالے سے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ یہ پیشرفت وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی جانب سے شروع کی گئی بحث کے دوران سامنے آئی ہے۔
دریں اثنا، علیحدہ جنوبی پنجاب صوبے کے لیے شہریوں کے مطالبات برقرار ہیں، اور کچھ حامیوں کا مؤقف ہے کہ نئی انتظامی اکائیاں خطے میں بہتر تعلیمی مواقع کا باعث بنیں گی۔
یہ بحث متنازعہ ہے، خاص طور پر سندھ میں صوبائی حدود میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔
اس بحث نے پاکستان کے انتظامی ڈھانچے پر مختلف آراء کو اجاگر کیا ہے۔ حامیوں کا مؤقف ہے کہ بہتر طرز حکمرانی اور اختیارات کو عوام کے قریب لانے کے لیے جنوبی پنجاب اور گریٹر کراچی جیسے نئے صوبے بنائے جائیں۔
تاہم، اس خیال پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، جہاں ریاستی اسٹیبلشمنٹ کے کچھ حصے وفاق کی 'رائٹ سائزنگ' کے لیے تیار ہو سکتے ہیں، وہیں سیاسی جماعتوں نے ملی جلی آراء کا اظہار کیا ہے، اور قوم پرست جماعتیں، خاص طور پر سندھ میں، اس کی شدید مخالف ہیں۔
سندھ میں پائے جانے والے جذبات اس کی تاریخی شناخت سے بھی جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ یہ 1936 میں بمبئی پریزیڈنسی سے علیحدگی کے بعد سے ایک الگ صوبہ رہا ہے۔
سندھ اسمبلی سیکرٹریٹ نے صوبے کی تقسیم کی کسی بھی تجویز کے خلاف اپنی قرارداد باضابطہ طور پر وفاقی حکومت کو پہنچا دی ہے۔ 9 ستمبر کی اطلاعات کے مطابق، صدر اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹریز کے ساتھ ساتھ سینیٹ اور قومی اسمبلی کے سیکرٹریٹ کو بھی خطوط ارسال کر دیے گئے ہیں۔
قرارداد میں وفاقی حکومت، پارلیمنٹ اور تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ سندھ کے عوام کی جمہوری خواہش کا احترام کریں اور صوبے کی علاقائی سالمیت کو تبدیل کرنے والی کسی بھی تجویز سے باز رہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نئے صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر اپنی پارٹی کا موقف واضح کر دیا ہے، انہوں نے کہا ہے کہ پی پی پی سندھ سمیت کسی بھی صوبے کی تقسیم کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آئین کے تحت کسی بھی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے، اور سندھ میں یہ اکثریت پیپلز پارٹی کے پاس ہے، جس کی وجہ سے اس کی رضامندی کے بغیر ایسا کوئی بھی اقدام ناممکن ہے۔
بحث میں شامل ہوتے ہوئے، ایم کیو ایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے بھی اپنی جماعت کا موقف عوامی سطح پر بیان کیا ہے، اور دلیل دی ہے کہ نئے صوبوں کی تشکیل سے ملک میں بہتری آسکتی ہے۔
نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کے گرد سیاسی بحث میں شدت آ گئی ہے، اور مختلف جماعتوں کی جانب سے نئے دلائل سامنے آ رہے ہیں۔ ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے سندھ میں نئی اکائیوں کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ 'تباہ' ہو چکا ہے اور اس اقدام سے رہائشیوں کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے۔ اس کے جواب میں، پی پی پی کی شرمیلا فاروقی نے اپنی پارٹی کی مخالفت کو مزید تیز کر دیا ہے، اور اطلاعات کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں 'وزیراعظم بے اختیار' ہیں۔ جاری بحث نے مسلم لیگ (ن) کے سرکاری مؤقف پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، جس میں اس بارے میں غیر یقینی صورتحال ہے کہ آیا وہ مکمل نئے صوبوں کی حمایت کرتی ہے یا چھوٹی انتظامی اکائیوں کی۔
پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے سیاسی تنازعہ منگل کے اجلاس کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سندھ اسمبلی کے فلور پر اراکین کے درمیان گرما گرم بحث کا باعث بن گیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شرمیلا فاروقی نے سندھ صوبے کی کسی بھی ممکنہ تقسیم کی مخالفت کی وجوہات عوامی سطح پر بیان کی ہیں۔ 8 ستمبر بروز منگل ایک بیان میں، انہوں نے نئے صوبوں کے قیام کے خلاف پی پی پی کے مضبوط مؤقف کا اعادہ کیا، خاص طور پر اس بات پر روشنی ڈالی کہ ان کی جماعت کے نزدیک سندھ کی تقسیم کیوں ناقابل قبول ہے۔
ذرائع اور اپڈیٹس
Explained: Why is everyone so mad about Karachi province?
Talk of Pakistan’s territorial reconfiguration is back in circulation again with mention of the division of Sindh producing the most bile. It was all started by the interior minister who told businessmen in Islamabad last month that he mourned the co
PA resolution against division of Sindh sent to federal govt
KARACHI: The Sindh Assembly Secretariat has sent letters to the principal secretaries to the president and prime minister, and to the Senate and National Assembly, conveying a resolution that rejected any proposal to divide the province. It informed
Redrawing the map
IT has been quite something to watch a whisper become, in a matter of weeks, the state’s new “number one priority”. The trigger was the interior minister’s surprising admission at the Pakistan Economic Summit in late July that the present system had
Responses